أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حدثنا أحمد بن سيَّار، حدثنا محمد بن كَثير، حدثنا سفيان عن الأعمش، عن إسماعيل بن رَجَاء، عن عُمَير، عن ابن عبَّاس قال: حَرُمَ من النَّسب سبعٌ ومن الصِّهر سبعٌ، ثم قرأ هذه الآية: ﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ﴾ هذا من النَّسَب، ﴿وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ﴾ [النساء: 23]، ﴿وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ﴾ [النساء: 22] (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد صحيح من رواية عكرمة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3189 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد صحيح من رواية عكرمة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3189 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: نسب کی وجہ سے سات رشتے حرام ہیں اور سسرالی رشتے (مصاہرت) کی وجہ سے بھی سات حرام ہیں، پھر انہوں نے یہ آیات تلاوت فرمائیں: ﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَواتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ﴾ ”تم پر تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں، تمہاری خالائیں، بھتیجیاں اور بھانجیاں حرام کر دی گئی ہیں“، یہ نسب کی وجہ سے حرام ہیں، (اور مزید پڑھا:) ﴿وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ﴾ ”اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا، تمہاری رضاعی بہنیں، تمہاری بیویوں کی مائیں، اور تمہاری وہ پرورش یافتہ سوتیلی بیٹیاں جو تمہاری گود میں پل رہی ہیں ان بیویوں سے جن سے تم دخول کر چکے ہو، لیکن اگر تم نے ان سے دخول نہیں کیا تو تم پر کوئی گناہ نہیں، اور تمہارے صلبی بیٹوں کی بیویاں، اور یہ کہ تم دو بہنوں کو بیک وقت جمع کرو سوائے اس کے کہ جو پہلے گزر چکا ہو“ [سورة النساء: 23]، اور (فرمایا:) ﴿وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكاَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ﴾ ”اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ نکاح کر چکے ہوں“ [سورة النساء: 22]۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنيه أبو الحسن علي بن محمد بن عُقْبة، حدثنا الحسن بن علي بن عفَّان العامري، حدثنا الحسن بن عَطيَّة (2)، حدثنا علي بن صالح، عن سِمَاك، عن عِكْرمة عن ابن عبَّاس قال: حَرُمَ سبعٌ من النَّسب، وسبعٌ من الصِّهْر (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3190 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3190 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے (ایک اور سند سے) روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: سات (رشتے) نسب کی وجہ سے حرام ہیں اور سات سسرالی رشتہ داری کی وجہ سے۔
أخبرنا الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، حدثنا شُعبة، عن أبي حَصِين، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس: أنه قال في هذه الآية ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [النساء: 24]، قال: كلُّ ذاتِ زوج إتيانُها زناً إِلَّا ما سُبِيَت (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3191 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3191 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ ”اور شوہر والی عورتیں (بھی تم پر حرام ہیں) سوائے ان کے جو تمہاری ملکیت میں آ جائیں“ [سورة النساء: 24] کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہر شوہر والی عورت (سے تعلق قائم کرنا) زنا ہے سوائے اس عورت کے جو جنگ میں لونڈی بنائی گئی ہو“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق ابن إبراهيم، أخبرنا النَّضْر بن شُميل، أخبرنا شعبة، حدثنا أبو مَسلَمة، قال: سمعت أبا نَضْرة يقول: قرأتُ على ابن عبَّاس ﴿فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ﴾ [النساء: 24]، قال ابنُ عبَّاس: (فما استَمتَعْتُم به مِنهُنَّ إلى أَجَلٍ مُسمًّى)، قال أبو نَضْرة: فقلت: ما نقرؤُها كذلك، قال ابن عبَّاس: واللهِ لَأَنزَلَها اللهُ كذلك (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3192 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3192 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ابونضرہ نے ان کے سامنے آیت ﴿فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ﴾ [سورة النساء: 24] تلاوت کی، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”(دراصل یہ یوں ہے:) پس جن عورتوں سے تم نے ایک مقررہ مدت تک فائدہ اٹھایا، تو انہیں ان کے مہر ادا کر دو“۔ ابونضرہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: ہم تو اسے اس طرح نہیں پڑھتے! تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے اسے اسی طرح نازل فرمایا تھا“۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا الفضل بن عبد الجبار، حدثنا علي بن الحسن بن شقيق، حدثنا نافع بن عمر، قال: سمعت، عبد الله ابن أبي مَلَيكة يقول: سُئِلت عائشةُ عن مُتْعة النساء، فقالت: بيني وبينكم كتابُ الله، قال: وقرأَتْ هذه الآية: ﴿وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ (5) إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ﴾ [المؤمنون: 5 - 6]، فمَنِ ابْتَغَى وراءَ ما زَوَّجه الله أو مَلَّكَه فقد عَدَا (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3193 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3193 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، (راوی کہتے ہیں کہ) ان سے متعہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب (کا فیصلہ) ہے“، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ﴾ ”اور وہ لوگ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے یا ان (لونڈیوں) کے جن کے وہ مالک ہیں، پس (ان کے پاس جانے میں) ان پر کوئی ملامت نہیں“ [سورة المؤمنون: 5 - 6]، (اور فرمایا:) ”پس جس نے ان (بیوی اور لونڈی) کے سوا کوئی اور راستہ تلاش کیا جن کا اللہ نے اسے مالک بنایا یا نکاح کیا، تو وہی حد سے تجاوز کرنے والا ہے“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو البَخْتَري عبد الله بن محمد بن شاكر، حدثنا أبو عبد الله محمد بن بِشْر العَبْدي، حدثنا مِسعَر بن كِدام، عن مَعْن بن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود، عن أبيه، عن عبد الله بن مسعود قال: إنَّ في سورة النساء لخمسَ آيات ما يَسُرُّني أنَّ لي بها الدنيا وما فيها: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا﴾ [النساء: 40]، و ﴿إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلًا كَرِيمًا﴾ [النساء: 31]، و ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ﴾ [النساء:48]، و ﴿وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَحِيمًا﴾ [النساء: 64] (2)، قال عبد الله: ما يَسُرُّني أَنَّ لي بها الدنيا وما فيها (1). هذا إسناد صحيح إن كان عبدُ الرحمن سمع من أبيه، فقد اختُلِفَ في ذلك.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3194 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3194 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”سورۃ النساء میں پانچ ایسی آیات ہیں کہ ان کے بدلے مجھے دنیا و مافیہا ملنا بھی اتنی خوشی نہ دیتا (جتنا ان آیات کا ہونا دیتا ہے): ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا﴾ ”بے شک اللہ ایک ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا، اور اگر وہ نیکی ہو تو اسے دوگنا کر دیتا ہے اور اپنے پاس سے اجرِ عظیم عطا فرماتا ہے“ [سورة النساء: 40]، اور ﴿إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلًا كَرِيمًا﴾ ”اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچتے رہو جن سے تمہیں روکا گیا ہے تو ہم تمہاری چھوٹی برائیاں تم سے دور کر دیں گے اور تمہیں عزت کے مقام میں داخل کریں گے“ [سورة النساء: 31]، اور ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ﴾ ”بے شک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے اور اس کے سوا جس کے لیے چاہے معاف فرما دیتا ہے“ [سورة النساء: 48]، اور ﴿وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَحِيمًا﴾ ”اور اگر وہ لوگ جب اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے، آپ کے پاس آ جاتے پھر اللہ سے مغفرت مانگتے اور رسول (ﷺ) بھی ان کے لیے مغفرت کی دعا فرماتے تو وہ اللہ کو توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم والا پاتے“ [سورة النساء: 64]۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے (دوبارہ) فرمایا: ”مجھے ان آیات کے بدلے دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، ملنا بھی خوش نہ کرتا“۔
اگر عبدالرحمن نے اپنے والد سے سماع کیا ہو تو یہ سند صحیح ہے، اور اس سماع میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
اگر عبدالرحمن نے اپنے والد سے سماع کیا ہو تو یہ سند صحیح ہے، اور اس سماع میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، أخبرنا قَبِيصة، حدثنا سفيان، عن ابن أبي نَجِيح، عن مجاهد، عن أم سَلَمة، أنها قالت: يا رسول الله، أيغزُو الرجالُ ولا نَعْزُو ولا نقاتلُ فتُستشهَدَ، وإنما لنا نصفُ الميراثِ؟ فأنزل الله ﴿وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ﴾ [النساء: 32] (2).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين إن كان سمع مجاهدٌ من أم سلمة (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3195 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين إن كان سمع مجاهدٌ من أم سلمة (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3195 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مرد غزوات میں حصہ لیتے ہیں جبکہ ہم (عورتیں) نہ غزوہ کرتی ہیں اور نہ ہی جنگ میں لڑ کر شہادت پاتی ہیں، اور ہمیں میراث میں بھی (مردوں کا) آدھا حصہ ملتا ہے؟“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ﴾ ”اور اس چیز کی تمنا نہ کرو جس میں اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے“ [سورة النساء: 32]۔
اگر مجاہد کا سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سماع ثابت ہو تو یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح الاسناد ہے۔
اگر مجاہد کا سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سماع ثابت ہو تو یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح الاسناد ہے۔
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو جعفر أحمد بن عبد الحميد الحارثي، حدثنا أبو أسامة، حدثني إدريس بن يزيد، حدثنا طلحة بن مُصرِّف، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿وَالَّذِينَ عَقَدَتْ (1) أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ﴾ [النساء: 33]، قال: كان المهاجرون حين قَدِمُوا المدينةَ تُورَّثُ الأنصارَ دون ذوي القُربَى، رحمةً للأخوَّة التي آخى رسولُ الله ﷺ بينهم، فلما نزلت: ﴿وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ﴾ [النساء: 33]، قال: فنَسَخَتها (وَالَّذِينَ عاقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ) من النَّصر والنَّصيحة (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ..... (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3196 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ..... (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3196 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ﴾ ”اور جن سے تمہارے داہنے ہاتھ عہد کر چکے ہیں، انہیں ان کا حصہ دے دو“ [سورة النساء: 33] کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”مہاجرین جب مدینہ تشریف لائے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے اور انصار کے درمیان جو بھائی چارہ قائم فرمایا تھا اس کی بنیاد پر انصار (موت کی صورت میں) قریبی رشتہ داروں کے بجائے مہاجرین کے وارث بنتے تھے، پھر جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ﴾ ”اور ہم نے ہر ایک کے لیے وارث مقرر کر دیے ہیں اس مال کے جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں“ تو اس نے پہلی صورت کو منسوخ کر دیا، اور (ارشاد باری تعالیٰ:) ”اور جن سے تمہارے داہنے ہاتھ عہد کر چکے ہیں، انہیں ان کا حصہ دے دو“ سے مراد (اب وراثت نہیں بلکہ) مدد اور خیر خواہی کا حصہ ہے“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے...
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے...