حدیث نمبر: 3231
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق ابن إبراهيم، أخبرنا النَّضْر بن شُميل، أخبرنا شعبة، حدثنا أبو مَسلَمة، قال: سمعت أبا نَضْرة يقول: قرأتُ على ابن عبَّاس ﴿فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ﴾ [النساء: 24]، قال ابنُ عبَّاس: (فما استَمتَعْتُم به مِنهُنَّ إلى أَجَلٍ مُسمًّى)، قال أبو نَضْرة: فقلت: ما نقرؤُها كذلك، قال ابن عبَّاس: واللهِ لَأَنزَلَها اللهُ كذلك (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3192 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ابونضرہ نے ان کے سامنے آیت ﴿فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ﴾ [سورة النساء: 24] تلاوت کی، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”(دراصل یہ یوں ہے:) پس جن عورتوں سے تم نے ایک مقررہ مدت تک فائدہ اٹھایا، تو انہیں ان کے مہر ادا کر دو“۔ ابونضرہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: ہم تو اسے اس طرح نہیں پڑھتے! تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے اسے اسی طرح نازل فرمایا تھا“۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3231
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،إسحاق بن إبراهيم: هو ابن راهويه، وأبو مسلمة: هو سعيد بن يزيد بن مسلمة الأزدي، وأبو نضرة: هو منذر بن مالك بن قِطعة العبدي.» [ترقيم الرساله 3231] [ترقيم الشركة 3211] [ترقيم العلميه 3192]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. إسحاق بن إبراهيم: هو ابن راهويه، وأبو مسلمة: هو سعيد بن يزيد بن مسلمة الأزدي، وأبو نضرة: هو منذر بن مالك بن قِطعة العبدي.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اسحاق بن ابراہیم سے مراد ’ابن راہویہ‘ ہیں، ابو مسلمہ سے مراد ’سعید بن یزید بن مسلمہ الازدی‘ ہیں، اور ابو نضرہ سے مراد ’منذر بن مالک بن قطعہ العبدی‘ ہیں۔
وأخرجه الطبري في "تفسير" 5/ 12 - 13، وابن أبي داود في "المصاحف" (218) من طريقين عن شعبة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے طبری نے "تفسیر" 5/ 12 - 13 میں، اور ابن ابی داود نے "المصاحف" (218) میں شعبہ سے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه الطبري أيضًا 5/ 12 من طريق داود بن أبي هند، عن أبي نضرة به.
حوالہ / مصدر: اسے طبری نے ہی 5/ 12 میں داود بن ابی ہند کے طریق سے، انہوں نے ابو نضرہ سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
ثم قال الطبري تعليقًا على هذه القراءة: هي بخلاف ما جاءت به مصاحفُ المسلمين، وغيرُ جائز لأحد أن يُلحق في كتاب الله تعالى شيئًا لم يأت به الخبرُ القاطعُ العُذرَ عمَّن لا يجوز خلافُه.
نوٹ / توضیح: پھر طبری نے اس قراءت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: یہ مسلمانوں کے مصاحف کے خلاف ہے، اور کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اللہ کی کتاب میں کوئی ایسی چیز ملائے جس کے بارے میں ایسی خبر (دلیل) نہ آئی ہو جو عذر کو ختم کر دے اور جس کی مخالفت جائز نہ ہو۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3231 سے ماخوذ ہے۔