المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
حَرُمَ مِنَ النَّسَبِ سَبْعٌ وَمِنَ الصِّهْرِ سَبْعٌ باب: نسب سے سات اور سسرالی رشتے سے سات عورتیں حرام ہیں
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو جعفر أحمد بن عبد الحميد الحارثي، حدثنا أبو أسامة، حدثني إدريس بن يزيد، حدثنا طلحة بن مُصرِّف، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿وَالَّذِينَ عَقَدَتْ (1) أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ﴾ [النساء: 33]، قال: كان المهاجرون حين قَدِمُوا المدينةَ تُورَّثُ الأنصارَ دون ذوي القُربَى، رحمةً للأخوَّة التي آخى رسولُ الله ﷺ بينهم، فلما نزلت: ﴿وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ﴾ [النساء: 33]، قال: فنَسَخَتها (وَالَّذِينَ عاقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ) من النَّصر والنَّصيحة (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ..... (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3196 - على شرط البخاري ومسلمسیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ﴾ ”اور جن سے تمہارے داہنے ہاتھ عہد کر چکے ہیں، انہیں ان کا حصہ دے دو“ [سورة النساء: 33] کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”مہاجرین جب مدینہ تشریف لائے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے اور انصار کے درمیان جو بھائی چارہ قائم فرمایا تھا اس کی بنیاد پر انصار (موت کی صورت میں) قریبی رشتہ داروں کے بجائے مہاجرین کے وارث بنتے تھے، پھر جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ﴾ ”اور ہم نے ہر ایک کے لیے وارث مقرر کر دیے ہیں اس مال کے جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں“ تو اس نے پہلی صورت کو منسوخ کر دیا، اور (ارشاد باری تعالیٰ:) ”اور جن سے تمہارے داہنے ہاتھ عہد کر چکے ہیں، انہیں ان کا حصہ دے دو“ سے مراد (اب وراثت نہیں بلکہ) مدد اور خیر خواہی کا حصہ ہے“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے...
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: "المستدرک" کے موجودہ نسخوں میں ایسا ہی ہے، اور یہ سات قراء میں سے ابن کثیر، نافع، ابو عمرو اور ابن عامر کی قراءت ہے۔ اور عاصم، حمزہ اور کسائی نے اسے "عَقَدَتْ" (الف کے بغیر) پڑھا ہے۔ (دیکھیے "السبعة" لابن مجاہد ص 233)۔
(2) إسناده صحيح. أبو أسامة: هو حماد بن أسامة.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو اسامہ سے مراد ’حماد بن اسامہ‘ ہیں۔
وأخرجه البخاري (458) و (6747)، وأبو داود (2922)، والنسائي (6384) و (11037) من طرق عن أبي أسامة بهذا الإسناد. واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه ﵀.
حوالہ / مصدر: اسے بخاری نے (458) اور (6747)، ابوداؤد نے (2922)، اور نسائی نے (6384) اور (11037) میں ابو اسامہ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے؛
اہم نکتہ: اور حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کی بھول (ذہول) ہے، اللہ ان پر رحم کرے۔
(3) هنا بياض في النسخ الخطية، ومكانه في المطبوع: ولم يخرجاه.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہاں بیاض (خالی جگہ) ہے، اور مطبوعہ نسخے میں اس کی جگہ "ولم يخرجاه" (اور اسے شیخین نے نہیں نکالا) ہے۔