حدیث نمبر: 3232
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا الفضل بن عبد الجبار، حدثنا علي بن الحسن بن شقيق، حدثنا نافع بن عمر، قال: سمعت، عبد الله ابن أبي مَلَيكة يقول: سُئِلت عائشةُ عن مُتْعة النساء، فقالت: بيني وبينكم كتابُ الله، قال: وقرأَتْ هذه الآية: ﴿وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ (5) إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ﴾ [المؤمنون: 5 - 6]، فمَنِ ابْتَغَى وراءَ ما زَوَّجه الله أو مَلَّكَه فقد عَدَا (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3193 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، (راوی کہتے ہیں کہ) ان سے متعہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب (کا فیصلہ) ہے“، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ﴾ ”اور وہ لوگ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے یا ان (لونڈیوں) کے جن کے وہ مالک ہیں، پس (ان کے پاس جانے میں) ان پر کوئی ملامت نہیں“ [سورة المؤمنون: 5 - 6]، (اور فرمایا:) ”پس جس نے ان (بیوی اور لونڈی) کے سوا کوئی اور راستہ تلاش کیا جن کا اللہ نے اسے مالک بنایا یا نکاح کیا، تو وہی حد سے تجاوز کرنے والا ہے“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3232
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،وسيأتي مكررًا برقم (3526).» [ترقيم الرساله 3232] [ترقيم الشركة 3212] [ترقيم العلميه 3193]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. وسيأتي مكررًا برقم (3526).
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
تفصیلِ روایت: اور یہ آگے نمبر (3526) پر مکرر آئے گا۔
وأخرجه البيهقي 7/ 206 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے 7/ 206 میں ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه الحارث بن أبي أسامة في "مسنده" (479 - بغية الباحث)، ومن طريقه ابن عبد البر في "التمهيد" 10/ 116 عن بشر بن عمر عن نافع بن عمر الجمحي، به.
حوالہ / مصدر: اسے حارث بن ابی اسامہ نے اپنی "مسند" (479 - بغية الباحث) میں، اور انہی کے طریق سے ابن عبدالبر نے "التمهيد" 10/ 116 میں بشر بن عمر سے، انہوں نے نافع بن عمر الجمحی سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرج معناه أبو عبيد في "الناسخ والمنسوخ" (131) من طريق القاسم بن محمد، عن عائشة.
حوالہ / مصدر: اس کا مفہوم ابو عبید نے "الناسخ والمنسوخ" (131) میں قاسم بن محمد کے طریق سے عائشہ رضی اللہ عنہا سے تخریج کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3232 سے ماخوذ ہے۔