المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
حَرُمَ مِنَ النَّسَبِ سَبْعٌ وَمِنَ الصِّهْرِ سَبْعٌ باب: نسب سے سات اور سسرالی رشتے سے سات عورتیں حرام ہیں
حدیث نمبر: 3234
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، أخبرنا قَبِيصة، حدثنا سفيان، عن ابن أبي نَجِيح، عن مجاهد، عن أم سَلَمة، أنها قالت: يا رسول الله، أيغزُو الرجالُ ولا نَعْزُو ولا نقاتلُ فتُستشهَدَ، وإنما لنا نصفُ الميراثِ؟ فأنزل الله ﴿وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ﴾ [النساء: 32] (2).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين إن كان سمع مجاهدٌ من أم سلمة (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3195 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مرد غزوات میں حصہ لیتے ہیں جبکہ ہم (عورتیں) نہ غزوہ کرتی ہیں اور نہ ہی جنگ میں لڑ کر شہادت پاتی ہیں، اور ہمیں میراث میں بھی (مردوں کا) آدھا حصہ ملتا ہے؟“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ﴾ ”اور اس چیز کی تمنا نہ کرو جس میں اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے“ [سورة النساء: 32]۔
اگر مجاہد کا سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سماع ثابت ہو تو یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح الاسناد ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) رجاله ثقات إلّا أنَّ المحفوظ فيه عن مجاهد: أنَّ أم سلمة قالت؛ هكذا على وجه الإرسال.
درجۂ حدیث: اس کے رجال ثقہ ہیں، فنی نکتہ / علّت: مگر مجاہد سے اس میں ’محفوظ‘ روایت یہ ہے: "کہ ام سلمہ نے فرمایا"؛ یعنی یہ مرسل ہے۔
قبيصة: هو ابن عقبة، وسفيان هو الثوري وابن أبي نجيح: هو عبد الله.
فنی نکتہ / علّت: قبیصہ سے مراد ’ابن عقبہ‘ ہیں، سفیان سے مراد ’ثوری‘ ہیں، اور ابن ابی نجیح سے مراد ’عبداللہ‘ ہیں۔
وأخرجه أحمد 44 / (26736)، والترمذي (3022) من طريق سفيان بن عيينة، عن ابن أبي نجيح، به. وقال الترمذي: هذا حديث مرسل، ورواه بعضهم عن ابن أبي نجيح عن مجاهد مرسلًا: أنَّ أم سلمة قالت كذا وكذا.
حوالہ / مصدر: اسے احمد نے 44/ (26736) اور ترمذی نے (3022) میں سفیان بن عیینہ سے، انہوں نے ابن ابی نجیح سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ اور ترمذی نے کہا: یہ حدیث مرسل ہے، اور بعض نے اسے ابن ابی نجیح سے، انہوں نے مجاہد سے مرسلاً روایت کیا ہے کہ ام سلمہ نے ایسا اور ایسا فرمایا۔
وانظر ما سيأتي برقم (3602).
تفصیلِ روایت: اور دیکھیے جو آگے نمبر (3602) پر آئے گا۔
(3) لم يصرِّح أحدٌ من أهل العلم بنفي سماعه منها، ولقاؤه لها وسماعه منها محتمل جدًا، إلَّا أنه لم يَرِد في شيء من الأسانيد تصريحُه بالسماع، وانظر كلام الشيخ أحمد شاكر ﵀ في هذه المسألة في تعليقه على "تفسير الطبري" برقم (9241).
فنی نکتہ / علّت: اہل علم میں سے کسی نے بھی ان کے (مجاہد کے) ان (ام سلمہ) سے سماع کی نفی کی تصریح نہیں کی، اور ان کی ملاقات اور سماع کا بہت زیادہ احتمال موجود ہے، مگر یہ کہ کسی سند میں ان کے سماع کی تصریح وارد نہیں ہوئی۔ اور اس مسئلے پر شیخ احمد شاکر رحمہ اللہ کا کلام "تفسیر طبری" کی تعلیق نمبر (9241) میں دیکھیں۔
درجۂ حدیث: اس کے رجال ثقہ ہیں، فنی نکتہ / علّت: مگر مجاہد سے اس میں ’محفوظ‘ روایت یہ ہے: "کہ ام سلمہ نے فرمایا"؛ یعنی یہ مرسل ہے۔
قبيصة: هو ابن عقبة، وسفيان هو الثوري وابن أبي نجيح: هو عبد الله.
فنی نکتہ / علّت: قبیصہ سے مراد ’ابن عقبہ‘ ہیں، سفیان سے مراد ’ثوری‘ ہیں، اور ابن ابی نجیح سے مراد ’عبداللہ‘ ہیں۔
وأخرجه أحمد 44 / (26736)، والترمذي (3022) من طريق سفيان بن عيينة، عن ابن أبي نجيح، به. وقال الترمذي: هذا حديث مرسل، ورواه بعضهم عن ابن أبي نجيح عن مجاهد مرسلًا: أنَّ أم سلمة قالت كذا وكذا.
حوالہ / مصدر: اسے احمد نے 44/ (26736) اور ترمذی نے (3022) میں سفیان بن عیینہ سے، انہوں نے ابن ابی نجیح سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ اور ترمذی نے کہا: یہ حدیث مرسل ہے، اور بعض نے اسے ابن ابی نجیح سے، انہوں نے مجاہد سے مرسلاً روایت کیا ہے کہ ام سلمہ نے ایسا اور ایسا فرمایا۔
وانظر ما سيأتي برقم (3602).
تفصیلِ روایت: اور دیکھیے جو آگے نمبر (3602) پر آئے گا۔
(3) لم يصرِّح أحدٌ من أهل العلم بنفي سماعه منها، ولقاؤه لها وسماعه منها محتمل جدًا، إلَّا أنه لم يَرِد في شيء من الأسانيد تصريحُه بالسماع، وانظر كلام الشيخ أحمد شاكر ﵀ في هذه المسألة في تعليقه على "تفسير الطبري" برقم (9241).
فنی نکتہ / علّت: اہل علم میں سے کسی نے بھی ان کے (مجاہد کے) ان (ام سلمہ) سے سماع کی نفی کی تصریح نہیں کی، اور ان کی ملاقات اور سماع کا بہت زیادہ احتمال موجود ہے، مگر یہ کہ کسی سند میں ان کے سماع کی تصریح وارد نہیں ہوئی۔ اور اس مسئلے پر شیخ احمد شاکر رحمہ اللہ کا کلام "تفسیر طبری" کی تعلیق نمبر (9241) میں دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3234 سے ماخوذ ہے۔