کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا سیدہ ہاجرہ علیہا السلام کی سنت ہے
أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، حدثنا جعفر بن عَوْن، حدثنا سفيان بن سعيد، عن عاصم بن كُلَيب، عن أبيه، عن ابن عبَّاس: أنه كان رآهم يطوفون بين الصَّفا والمَرْوة، قال: هذا ممّا أَورَثَتكم أمُّ إسماعيل (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3072 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3072 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے لوگوں کو صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ”یہ ان چیزوں میں سے ہے جو سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی والدہ (سیدہ ہاجرہ) نے تمہارے لیے ورثے میں چھوڑی ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین (امام بخاری و مسلم) نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین (امام بخاری و مسلم) نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو أحمد محمد بن أحمد الصَّفّار العَدْل، حدثنا أحمد بن محمد بن نَصْر، حدثنا عمرو بن طلحة القَنَّاد، حدثنا أسباط بن نَصْر، عن السُّدِّي، عن أبي مالك، عن ابن عبَّاس في قوله: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾، قال: كانت الشياطين في الجاهلية تَعزِفُ الليلَ أجمَعَ بين الصفا والمروة، وكانت فيهما آلهةٌ لهم أصنامٌ، فلما جاء الإسلام قال المسلمون: يا رسول الله، لا نطوفُ بين الصفا والمروة، فإنه شيء كنا نصنعُه في الجاهلية؛ فأنزل الله: ﴿فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا﴾ [البقرة: 158]، يقول: ليس عليه إثمٌ ولكن له أَجْر (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3073 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3073 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 158] کے بارے میں مروی ہے، انہوں نے فرمایا: زمانہ جاہلیت میں شیاطین صفا اور مروہ کے درمیان پوری رات موسیقی بجایا کرتے تھے اور وہاں ان کے بت بھی رکھے ہوئے تھے، جب اسلام آیا تو مسلمانوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہیں کریں گے کیونکہ یہ وہ کام ہے جو ہم جاہلیت میں کیا کرتے تھے، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ جس نے حج یا عمرہ کیا اس پر ان دونوں کے درمیان سعی کرنے میں کوئی گناہ نہیں، یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ اس پر کوئی وبال نہیں بلکہ اس کے لیے اجر ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان العامري، حدثنا أبو أسامة، حدثنا طلحة بن عمرو، أخبرني عطاء بن أبي رَبَاح، عن أبي هريرة أنه قال: لولا آيةٌ من كتاب الله ما أخبرتُ أحدًا شيئًا، قيل: وما هي يا أبا هريرة؟ قال: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى مِنْ بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ أُولَئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ (159) إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَبَيَّنُوا﴾ [البقرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3074 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3074 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: اگر اللہ کی کتاب میں یہ آیت نہ ہوتی تو میں کسی کو کوئی بات نہ بتاتا، پوچھا گیا: اے ابوہریرہ! وہ کون سی آیت ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى مِنْ بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ أُولَئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ (159) إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَبَيَّنُوا﴾ [سورة البقرة: 159-160] ”بے شک جو لوگ ہماری نازل کردہ روشن دلیلوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں اس کے بعد کہ ہم نے اسے لوگوں کے لیے کتاب میں واضح کر دیا ہے، تو ان پر اللہ بھی لعنت کرتا ہے اور لعنت کرنے والے بھی لعنت کرتے ہیں، سوائے ان کے جنہوں نے توبہ کی، اصلاح کر لی اور (حق کو) ظاہر کر دیا۔“
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جَرير، عن الأعمش، عن حَبيب بن أبي ثابت، عن ذرٍّ، عن سعيد بن عبد الرحمن بن أَبزَى، أظنُّه عن أبيه، عن أُبيِّ بن كعب قال: لا تسبُّوا الرِّيحَ، فإنها من نَفَس الرَّحمن - قوله: ﴿وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ﴾ [البقرة: 164]- ولكن قولوا: اللهمَّ إنا نسألُك من خير هذه الرِّيح، وخير ما أُرسِلَت به، ونعوذُ بك من شرِّها وشرِّ ما أُرسِلَت به (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وقد أُسنِدَ من حديث حبيب بن أبي ثابت من غير هذه الرواية.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3075 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وقد أُسنِدَ من حديث حبيب بن أبي ثابت من غير هذه الرواية.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3075 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ہوا کو برا بھلا نہ کہو کیونکہ یہ رحمن کے نفس (یعنی اس کی راحت و رحمت) میں سے ہے، جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے ﴿وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ﴾ [سورة البقرة: 164] بلکہ تم یہ دعا مانگو: «اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ الرِّيحِ، وَخَيْرِ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ» ”اے اللہ! ہم تجھ سے اس ہوا کی بھلائی کا سوال کرتے ہیں اور اس خیر کا جو اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے، اور ہم تیری پناہ مانگتے ہیں اس کے شر سے اور اس شر سے جو اس کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ حدیث حبیب بن ابی ثابت سے دیگر اسناد سے بھی مروی ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ حدیث حبیب بن ابی ثابت سے دیگر اسناد سے بھی مروی ہے۔
أخبرني أبو الحسين محمد بن أحمد القَنطَري ببغداد، حدثنا أبو قِلَابة الرَّقَاشي، حدثنا أبو عاصم، حدثنا عيسى بن أبي عيسى، عن قيس بن سعد، عن عطاء، عن ابن عبَّاس: ﴿وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْأَسْبَابُ﴾ [البقرة: 166]، قال: المودَّةُ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3076 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3076 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ کے ارشاد ﴿وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْأَسْبَابُ﴾ [سورة البقرة: 166] ”اور ان کے سب تعلقات منقطع ہو جائیں گے“ کے بارے میں مروی ہے، انہوں نے فرمایا: (الاسباب سے مراد) باہمی محبت و مودت ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق من أصل كتابه .... (2) حدثنا موسى بن أَعيَن، حدثنا عبد الكريم بن مالك، عن مجاهد، عن أبي ذرٍّ: أنه سأل رسول الله ﷺ عن الإيمان، فتَلَا هذه الآية: ﴿لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ﴾ [البقرة: 177]، حتى فَرَغَ من الآية، قال: ثم سأله أيضًا فتلَاها، ثم سأله أيضًا فتلاها، ثم سأله فقال: "فإذا عملتَ حسنةً أحبَّها قلبُك، وإذا عملتَ سيئةً أبغَضَها قلبُك" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3077 - كيف وهو منقطع
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3077 - كيف وهو منقطع
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے ایمان کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ﴾ [سورة البقرة: 177] یہاں تک کہ پوری آیت مکمل فرمائی، انہوں نے دوبارہ پوچھا تو آپ ﷺ نے پھر وہی تلاوت فرمائی، تیسری بار پوچھا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”پس جب تم کوئی نیک کام کرو اور تمہارا دل اسے پسند کرے، اور جب تم کوئی برا کام کرو اور تمہارا دل اسے ناپسند کرے (تو سمجھ لو تم مومن ہو)۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّيّ، حدثنا محمد بن الفَرَج الأزرق، حدثنا أبو النَّضْر، حدثنا شُعبة، عن منصور. وأخبرني أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي ببغداد، حدثنا إسحاق بن الحسن، حدثنا أبو حُذيفة، حدثنا سفيان، عن منصور، عن زُبَيد عن مُرَّة بن شَراحِيل، عن عبد الله بن مسعود في قول الله ﷿: ﴿وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى﴾ [البقرة: 177]، قال: يعطي الرجلَ وهو صحيحٌ شَحِيح، يَأمُل العيشَ ويخاف الفقرَ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3078 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3078 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے ارشاد ﴿وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى﴾ [سورة البقرة: 177] ”اور اللہ کی محبت میں اپنا مال قرابت داروں کو دیتا ہے“ کے بارے میں مروی ہے، انہوں نے فرمایا: (اس کا مطلب یہ ہے کہ) آدمی اس حال میں مال صدقہ کرے کہ وہ تندرست ہو اور اس کے دل میں مال کی حرص ہو، وہ لمبی زندگی کی امید رکھتا ہو اور فقر و تنگدستی سے ڈرتا ہو۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔