حدیث نمبر: 3110
أخبرنا أبو أحمد محمد بن أحمد الصَّفّار العَدْل، حدثنا أحمد بن محمد بن نَصْر، حدثنا عمرو بن طلحة القَنَّاد، حدثنا أسباط بن نَصْر، عن السُّدِّي، عن أبي مالك، عن ابن عبَّاس في قوله: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾، قال: كانت الشياطين في الجاهلية تَعزِفُ الليلَ أجمَعَ بين الصفا والمروة، وكانت فيهما آلهةٌ لهم أصنامٌ، فلما جاء الإسلام قال المسلمون: يا رسول الله، لا نطوفُ بين الصفا والمروة، فإنه شيء كنا نصنعُه في الجاهلية؛ فأنزل الله: ﴿فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا﴾ [البقرة: 158]، يقول: ليس عليه إثمٌ ولكن له أَجْر (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3073 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 158] کے بارے میں مروی ہے، انہوں نے فرمایا: زمانہ جاہلیت میں شیاطین صفا اور مروہ کے درمیان پوری رات موسیقی بجایا کرتے تھے اور وہاں ان کے بت بھی رکھے ہوئے تھے، جب اسلام آیا تو مسلمانوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہیں کریں گے کیونکہ یہ وہ کام ہے جو ہم جاہلیت میں کیا کرتے تھے، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ جس نے حج یا عمرہ کیا اس پر ان دونوں کے درمیان سعی کرنے میں کوئی گناہ نہیں، یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ اس پر کوئی وبال نہیں بلکہ اس کے لیے اجر ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3110
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن. السدي: هو إسماعيل بن عبد الرحمن
تخریج حدیث «إسناده حسن. السدي: هو إسماعيل بن عبد الرحمن، وأبو مالك: اسمه غزوان الغفاري.» [ترقيم الرساله 3110] [ترقيم الشركة 3091] [ترقيم العلميه 3073]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن. السدي: هو إسماعيل بن عبد الرحمن، وأبو مالك: اسمه غزوان الغفاري.
درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سدی سے مراد ’اسماعیل بن عبدالرحمن‘ ہیں، اور ابو مالک کا نام ’غزوان الغفاری‘ ہے۔
وأخرجه بنحوه الطبري في "تفسيره" 2/ 46 - 47 عن موسى بن هارون الهمداني، عن عمرو بن طلحة القنّاد بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اس کی مثل طبری نے اپنی "تفسیر" 2/ 46 - 47 میں موسیٰ بن ہارون الہمدانی سے، انہوں نے عمرو بن طلحہ القناد سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي داود في "المصاحف" (318) من طريق عامر بن الفرات، وابن أبي حاتم في "تفسيره" 1/ 267 من طريق عمرو بن محمد العنقزي، كلاهما عن أسباط بن نصر، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی داود نے "المصاحف" (318) میں عامر بن الفرات کے طریق سے، اور ابن ابی حاتم نے اپنی "تفسیر" 1/ 267 میں عمرو بن محمد العنقزی کے طریق سے، دونوں نے اسباط بن نصر سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
قوله: "تعزف" قال ابن الأثير في "النهاية": عزيف الجن: جَرْس، أصواتها، وقيل: هو صوت يُسمَع كالطبل بالليل، وقيل: إنه صوت الرياح في الجو فتتوهمه أهل البادية صوتُ الجن، وعزيف الرياح: ما يُسمع من دويِّها.
نوٹ / توضیح: لفظ "تعزف" کے بارے میں ابن اثیر نے "النهاية" میں کہا: ’عزيف الجن‘ سے مراد ان کی آوازیں یا گنگناہٹ (جرس) ہے، اور کہا گیا ہے کہ یہ رات کو ڈھول جیسی سنائی دینے والی آواز ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فضا میں ہواؤں کی آواز ہوتی ہے جسے دیہاتی لوگ جنوں کی آواز سمجھ لیتے ہیں، اور ’عزیف الریاح‘ وہ گونج ہے جو ہوا سے سنی جاتی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3110 سے ماخوذ ہے۔