کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: صفا اور مروہ جاہلیت کے زمانے میں بھی عبادت کی جگہوں میں شمار ہوتے تھے
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ، حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا محمد بن سعيد ابن الأصبهاني، حدثنا علي بن مَسهِر، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة قالت: إنما نزلت هذه الآيةُ في الأنصار، كانوا في الجاهلية إذا أَحرموا لا يَحِلُّ لهم أن يَطَّوَّفوا بين الصَّفَا والمَرْوة، فلما قَدِمْنا ذَكَروا ذلك لرسول الله ﷺ، فأنزل الله: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾ إلى آخر الآية [البقرة: 158] (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3069 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ یہ آیت ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 158] انصار کے بارے میں نازل ہوئی، وہ جاہلیت میں جب احرام باندھتے تو ان کے لیے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا حلال نہیں تھا، چنانچہ جب ہم (مدینہ) آئے تو انہوں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ سے کیا، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3106
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،» [ترقيم الرساله 3106] [ترقيم الشركة 3087] [ترقيم العلميه 3069]
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أَسِيد بن عاصم الأصبهاني، حدثنا الحسين بن حفص، عن سفيان، عن عاصم قال: سألتُ أنس بن مالك عن الصَّفا والمَرْوة، قال: كانتا من مَشاعِر الجاهلية، فلما كان الإسلامُ أمسَكْنا عنهما، فأنزل الله: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا﴾ الآيةَ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3070 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، (عاصم کہتے ہیں کہ) میں نے ان سے صفا اور مروہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہ دونوں جاہلیت کے شعائر میں سے تھے، پھر جب اسلام آیا تو ہم نے (ان کی سعی سے) ہاتھ روک لیا، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا﴾ [سورة البقرة: 158]۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3107
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد جيد من أجل الحسين بن حفص. سفيان: هو الثوري، وعاصم: هو ابن سليمان الأحول.» [ترقيم الرساله 3107] [ترقيم الشركة 3088] [ترقيم العلميه 3070]
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا محمد بن فُضَيل، حدثنا عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: أتاه رجلٌ فقال: أَبدأُ بالصَّفا قبلَ المَرْوة، أو بالمروةِ قبل الصفا؟ وأُصلِّي قبل أن أطوفَ، أو أطوفُ قبل أن أُصلِّي؟ وأَحلِقُ قبل أن أذبحَ، أو أذبحُ قبل أن أحلقَ؟ فقال ابن عبَّاس: خُذْ ذاك من كتاب الله، فإنه أجدَرُ أن يُحفَظَ، قال الله ﵎: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾، فالصَّفا قبل المَرْوة، وقال: ﴿لَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ﴾ [البقرة: 196] الذبحُ قبل الحَلْق، وقال: ﴿طَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ﴾ [الحج: 26]، الطوافُ قبل الصلاة (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3071 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک شخص آیا اور پوچھا: کیا میں مروہ سے پہلے صفا سے شروع کروں یا صفا سے پہلے مروہ سے؟ اور کیا میں طواف سے پہلے نماز پڑھوں یا نماز سے پہلے طواف کروں؟ اور کیا میں ذبح کرنے سے پہلے بال منڈواؤں یا بال منڈوانے سے پہلے ذبح کروں؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ان مسائل کا جواب اللہ کی کتاب سے لو کیونکہ وہ زیادہ محفوظ رکھنے کے لائق ہے؛ اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾، لہذا مروہ سے پہلے صفا (کا ذکر ہے تو سعی وہیں سے شروع ہو گی)، اور اللہ نے فرمایا: ﴿لَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ﴾ [سورة البقرة: 196]، لہذا حلق سے پہلے ذبح ہو گا، اور اللہ نے فرمایا: ﴿طَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ﴾ [سورة الحج: 26]، لہذا نماز سے پہلے طواف ہو گا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3108
درجۂ حدیث محدثین: هذا إسناد لا بأس به
تخریج حدیث «هذا إسناد لا بأس به مع ما ذُكر من أنَّ سماع محمد بن فضيل من عطاء بن السائب كان قبل اختلاط عطاء، لكن توبع ابن فضيل عن عطاء ببعضه - وهو قصة الطواف قبل الصلاة - كما سلف برقم (3093) و (3094)، ثم إنه ثبت من وجهين عند الطحاوي في ...» [ترقيم الرساله 3108] [ترقيم الشركة 3089] [ترقيم العلميه 3071]