المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
ذِكْرُ وُزَرَائِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَرْضِ وَمِنَ السَّمَاءِ باب: سیدنا رسول اللہ ﷺ کے وزراء زمین میں بھی تھے اور آسمان میں بھی
حدیث نمبر: 3083
حدثنا أحمد بن كامل بن خلف القاضي، حدثنا عبد الله بن رَوْح المدائني، حدثنا شَبَابة بن سَوَّار، حدثنا أبو عُتْبة الحمصي، عن عطاء بن عَجْلان، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قال رسول الله ﷺ: "وَزِيرايَ من السماء: جبريلُ وميكائيلُ، ومن أهل الأرض: أبو بكرٍ وعمرهُ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وإنما يُعرَف هذا الحديث من حديث سوَّار بن مُصعَب عن عَطِيَّة العَوْفي عن أبي سعيد، وليس من شرط هذا الكتاب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3046 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آسمان والوں میں سے میرے دو وزیر جبرائیل اور میکائیل ہیں، اور زمین والوں میں سے میرے دو وزیر ابوبکر اور عمر ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین (امام بخاری و مسلم) نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ حدیث سوار بن مصعب عن عطیہ عوفی عن ابی سعید کے واسطے سے معروف ہے، جبکہ یہ (سند) اس کتاب کی شرط پر نہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده واهٍ، عطاء بن عجلان متروك واتهمه بعضهم بالكذب. أبو عتبة الحمصي: هو إسماعيل ابن عياش وأبو نضرة هو المنذر بن مالك بن قِطعة.
درجۂ حدیث: اس کی سند ’واہی‘ (انتہائی کمزور) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عطاء بن عجلان ’متروک‘ ہیں اور بعض نے ان پر جھوٹ کا الزام لگایا ہے۔ ابو عتبہ الحمصے سے مراد ’اسماعیل بن عیاش‘ ہیں، اور ابو نضرہ سے مراد ’منذر بن مالک بن قطعہ‘ ہیں۔
وأخرجه الآجري في "الشريعة" (1327) من طريق عبد الرحمن بن مالك، عن عطاء بن عجلان به، وعبد الرحمن بن مالك متروك أيضًا. وانظر ما بعده.
حوالہ / مصدر: اسے آجری نے "الشريعة" (1327) میں عبدالرحمن بن مالک کے طریق سے عطاء بن عجلان سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے، اور عبدالرحمن بن مالک بھی ’متروک‘ ہیں۔
تفصیلِ روایت: اور اس کے بعد والی (روایت) کو دیکھیں۔
درجۂ حدیث: اس کی سند ’واہی‘ (انتہائی کمزور) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عطاء بن عجلان ’متروک‘ ہیں اور بعض نے ان پر جھوٹ کا الزام لگایا ہے۔ ابو عتبہ الحمصے سے مراد ’اسماعیل بن عیاش‘ ہیں، اور ابو نضرہ سے مراد ’منذر بن مالک بن قطعہ‘ ہیں۔
وأخرجه الآجري في "الشريعة" (1327) من طريق عبد الرحمن بن مالك، عن عطاء بن عجلان به، وعبد الرحمن بن مالك متروك أيضًا. وانظر ما بعده.
حوالہ / مصدر: اسے آجری نے "الشريعة" (1327) میں عبدالرحمن بن مالک کے طریق سے عطاء بن عجلان سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے، اور عبدالرحمن بن مالک بھی ’متروک‘ ہیں۔
تفصیلِ روایت: اور اس کے بعد والی (روایت) کو دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3083 سے ماخوذ ہے۔