کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: اگر دو ولی نکاح کر دیں تو پہلا معتبر ہوگا اور اگر دو اجازت دینے والے بیع کریں تو پہلا معتبر ہوگا
حدثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد الدَّقَّاق ببغداد، حدثنا عبد الرحمن بن محمد بن منصور الحارثي، حدثنا معاذ بن هشام. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني محمد بن أبي بكر، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أبي، عن قَتَادة، عن الحسن، عن سَمُرة بن جُندُب، قال: قال رسول الله ﷺ: "أيُّما امرأةٍ زَوَّجها وَلِيّان، فهي للأول منهما، وأيُّما رجلَين ابتاعا بَيعًا، فهو للأول منهما" (1). تابعَه سعيد بن أبي عَرُوبة وسعيد بن بَشير الدمشقي عن قَتَادة. أما حديث سعيد بن أبي عَرُوبة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2720 - على شرط البخاري_x000D_ أَمَّا حَدِيثُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس عورت کا نکاح دو ولیوں نے (الگ الگ جگہ) کر دیا ہو تو وہ پہلے شوہر کی ہوگی، اور جن دو آدمیوں نے کوئی چیز خریدی ہو تو وہ پہلے خریدار کی ہوگی۔“
اس کی متابعت سعید بن ابی عروبہ اور سعید بن بشیر دمشقی نے قتادہ سے کی ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب النكاح / حدیث: 2754
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وسماع الحسن» [ترقيم الرساله 2754] [ترقيم الشركة 2736] [ترقيم العلميه 2720]
فأخبرَناه أبو الفضل الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، حدثنا سعيد، عن قَتَادة، عن الحسن، عن سَمُرة بن جُندُب، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "أيُّما رجل باع مِن رجلَين بيعًا، فهو للأوّل منهما، وأيُّما امرأةٍ زَوَّجها وَليّان، فهي للأوّل" (2). وأما حديث سعيد بن بَشير:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے دو آدمیوں کے ہاتھ کوئی چیز فروخت کی تو وہ پہلے خریدار کی ہوگی، اور جس عورت کا نکاح دو ولیوں نے (الگ الگ جگہ) کر دیا ہو تو وہ پہلے شوہر کی ہوگی۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب النكاح / حدیث: 2755
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل عبد الوهاب بن عطاء، فهو صدوق لا بأس به، وقد توبع.» [ترقيم الرساله 2755] [ترقيم الشركة 2737]
فحدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا عُبيد بن شَريك، حدثنا أبو الجُمَاهِر، حدثنا سعيد بن بَشير، عن قَتَادة، عن الحسن، عن سَمُرة بن جندب، قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا أنكَحَ الوَليّان، فهو للأول، وإذا باع المُجِيزان، فهو للأول" (1). وقد تابعَ (2) قَتَادة على روايته عن الحسن أشعثُ بن عبد الملك الحُمْراني:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب دو (الگ الگ) ولی (کسی عورت کا دو جگہ) نکاح کر دیں تو وہ پہلے (نکاح والے) کے لیے ہے، اور جب دو (مجاز) وکیل (ایک ہی چیز کو دو جگہ) فروخت کر دیں تو وہ پہلے (خریدار) کے لیے ہے۔“ قتادہ کی حسن بصری سے اس روایت میں اشعث بن عبدالملک الحمرانی نے بھی متابعت کی ہے۔
یہ تمام نکھرے ہوئے اور واضح طرق جو میں نے اس متن کے لیے ذکر کیے ہیں، امام بخاری کی شرط پر صحیح ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب النكاح / حدیث: 2756
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل سعيد بن بشير. أبو الجُماهِر: هو محمد بن عثمان التَّنُوخي.» [ترقيم الرساله 2756] [ترقيم الشركة 2738]
أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله بن أبي الوَزير، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثني أشعثُ بن عبد الملك، عن الحسن، عن سَمُرة، عن النبي ﷺ قال: "إذا أنكَحَ المُجِيزان، فالأولُ أحقُّ" (3). هذه الطرقُ النّواصعُ التي ذكرتُها لهذا المتن، كلُّها صحيحة على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2723 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب دو (مجاز) وکیل (کسی عورت کا الگ الگ جگہ) نکاح کر دیں تو پہلا (جس کا نکاح پہلے ہوا) زیادہ حقدار ہے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب النكاح / حدیث: 2757
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 2757] [ترقيم الشركة 2739] [ترقيم العلميه 2723]