حدیث نمبر: 2756
فحدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا عُبيد بن شَريك، حدثنا أبو الجُمَاهِر، حدثنا سعيد بن بَشير، عن قَتَادة، عن الحسن، عن سَمُرة بن جندب، قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا أنكَحَ الوَليّان، فهو للأول، وإذا باع المُجِيزان، فهو للأول" (1). وقد تابعَ (2) قَتَادة على روايته عن الحسن أشعثُ بن عبد الملك الحُمْراني:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب دو (الگ الگ) ولی (کسی عورت کا دو جگہ) نکاح کر دیں تو وہ پہلے (نکاح والے) کے لیے ہے، اور جب دو (مجاز) وکیل (ایک ہی چیز کو دو جگہ) فروخت کر دیں تو وہ پہلے (خریدار) کے لیے ہے۔“ قتادہ کی حسن بصری سے اس روایت میں اشعث بن عبدالملک الحمرانی نے بھی متابعت کی ہے۔
یہ تمام نکھرے ہوئے اور واضح طرق جو میں نے اس متن کے لیے ذکر کیے ہیں، امام بخاری کی شرط پر صحیح ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب النكاح / حدیث: 2756
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل سعيد بن بشير. أبو الجُماهِر: هو محمد بن عثمان التَّنُوخي.» [ترقيم الرساله 2756] [ترقيم الشركة 2738]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل سعيد بن بشير. أبو الجُماهِر: هو محمد بن عثمان التَّنُوخي.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے اور سعید بن بشیر کی وجہ سے متابعات و شواہد میں یہ اسناد "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: "ابو الجماہر" سے مراد محمد بن عثمان التنوخی ہیں۔
وأخرجه ابن ماجه (2191) من طريق وكيع بن الجراح، عن سعيد بن بشير، بهذا الإسناد. مُقتصِرًا على ذكر المُجيزَين.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابن ماجہ (2191) نے وکیع بن الجراح عن سعید بن بشیر کے طریق سے مذکورہ اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے، تاہم انہوں نے صرف دو اجازت دینے والوں کے ذکر پر اکتفا کیا ہے۔
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: تابعه.
فنی نکتہ / علّت: مخطوطات (ہاتھ سے لکھے گئے نسخوں) میں یہاں لفظ تحریف ہو کر "تابعه" ہو گیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2756 سے ماخوذ ہے۔