کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: جو اللہ کی راہ میں سرحد پر پہرہ دیتے ہوئے مر جائے اس کا عمل قیامت تک بڑھتا رہتا ہے اور وہ عذابِ قبر سے محفوظ رہتا ہے
أخبرنا أبو العباس قاسم بن القاسم السَّيّاري، حدثنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرني حَيْوة بن شُريح، أخبرني أبو هانئ حُميد بن هانئ الخَوْلاني، أنَّ عمرو بن مالك الجَنْبي أخبره، أنه سمع فَضَالة بن عُبيد يحدِّث عن رسول الله ﷺ، قال: "مَن ماتَ على مَرْتَبةٍ من هذه المَراتِب، بُعِث عليها يومَ القيامة: رِباطٌ، أو حجٌّ، أو غيرُ ذلك" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص جس (نیک عمل کی) حالت پر فوت ہو، قیامت کے دن اسی حالت پر اٹھایا جائے گا، خواہ وہ سرحد کی پہرہ داری ہو، حج ہو یا کوئی اور عمل۔“ نیز فضالہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان بھی نقل کیا: ”ہر مرنے والے کے عمل پر (موت کے ساتھ ہی) مہر لگا دی جاتی ہے سوائے اس شخص کے جو اللہ کی راہ میں پہرہ داری کی حالت میں فوت ہو، اس کا نیک عمل قیامت تک بڑھتا رہتا ہے اور اسے قبر کی آزمائش سے محفوظ کر دیا جاتا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب قسم الفيء / حدیث: 2669
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو المُوَجِّه: هو محمد بن عمرو الفَزَاري، وعَبْدان: هو عبد الله بن عثمان بن جَبَلة، وعَبْدان لقبُه، وعبد الله: هو ابن المبارك.» [ترقيم الرساله 2669] [ترقيم الشركة 2652]
قال فَضَالةُ: وسمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "كلُّ مَيتٍ يُختَم على عَمَله إِلَّا الذي مات مُرابطًا في سبيل الله، يَنمُو له عملُه إلى يوم القيامة، ويُؤْمَّنُ فتنةَ القبر" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”ہر مرنے والے کا عمل اس کی موت پر ختم کر دیا جاتا ہے سوائے اس شخص کے جو اللہ کی راہ میں سرحدوں کی نگہبانی (رباط) کرتے ہوئے فوت ہو، اس کا عمل قیامت کے دن تک بڑھتا رہتا ہے، اور اسے قبر کی آزمائش (فتنے) سے محفوظ کر دیا جاتا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب قسم الفيء / حدیث: 2669M
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 2669M] [ترقيم الشركة 2652/1]
أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن عبد الحميد بن جعفر، عن يزيد بن أبي حبيب، عن سُوَيد بن قيس، عن معاوية بن حُدَيج، عن أبي ذرّ، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "ليس من فرسٍ عَرَبي إلّا يُؤذَنُ له مع كلّ فَجْرٍ بدعوتَين، يقول: اللهم إنك خَوّلْتَني مَن خَوّلْتَني مِن بني آدم، فاجعلْني أحبَّ أهلِه ومالِه إليه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2638 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”کوئی بھی عربی گھوڑا ایسا نہیں ہے جسے ہر سحر کے وقت دو دعائیں مانگنے کی اجازت نہ دی جاتی ہو، وہ کہتا ہے: «اللَّهُمَّ إِنَّكَ خَوَّلْتَنِي مَنْ خَوَّلْتَنِي مِنْ بَنِي آدَمَ، فَاجْعَلْنِي أَحَبَّ أَهْلِهِ وَمَالِهِ إِلَيْهِ» ”اے اللہ! تو نے بنی آدم میں سے جس کے قبضے میں مجھے دیا ہے، مجھے اس کے نزدیک اس کے اہل اور مال سے زیادہ محبوب بنا دے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب قسم الفيء / حدیث: 2670
درجۂ حدیث محدثین: صحيح موقوفًا على أبي ذرّ الغفاري كما بيناه برقم (2488)
تخریج حدیث «صحيح موقوفًا على أبي ذرّ الغفاري كما بيناه برقم (2488)، فقد تقدم هناك من طريق رَوح بن عُبادة عن عبد الحميد بن جعفر.» [ترقيم الرساله 2670] [ترقيم الشركة 2653] [ترقيم العلميه 2638]
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا موسى بن سهل (2)، حدثنا مروان بن معاوية الفَزَاري، عن أبي حيّان التَّيْمي، عن أبي زُرعة، عن أبي هريرة: أنَّ النبي ﷺ كان يُسمّي الأُنثى من الخيل فَرَسًا (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2639 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ گھوڑی (مادہ گھوڑے) کو بھی ”فرس“ پکارتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب قسم الفيء / حدیث: 2671
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو حَيَّان التَّيْمي: هو يحيى بن سعيد بن حيّان، وأبو زُرعة: هو ابن عمرو بن جرير بن عبد الله البَجَلي.» [ترقيم الرساله 2671] [ترقيم الشركة 2654] [ترقيم العلميه 2639]