المستدرك على الصحيحين
كتاب قسم الفيء— قرآن پاک سے مالِ غنیمت کی تقسیم کا حکم ثابت ہے
الَّذِي مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَنْمُو لَهُ عَمَلُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَيُؤَمَّنُ فِتْنَةَ الْقَبْرِ . باب: جو اللہ کی راہ میں سرحد پر پہرہ دیتے ہوئے مر جائے اس کا عمل قیامت تک بڑھتا رہتا ہے اور وہ عذابِ قبر سے محفوظ رہتا ہے
حدیث نمبر: 2669M
قال فَضَالةُ: وسمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "كلُّ مَيتٍ يُختَم على عَمَله إِلَّا الذي مات مُرابطًا في سبيل الله، يَنمُو له عملُه إلى يوم القيامة، ويُؤْمَّنُ فتنةَ القبر" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”ہر مرنے والے کا عمل اس کی موت پر ختم کر دیا جاتا ہے سوائے اس شخص کے جو اللہ کی راہ میں سرحدوں کی نگہبانی (رباط) کرتے ہوئے فوت ہو، اس کا عمل قیامت کے دن تک بڑھتا رہتا ہے، اور اسے قبر کی آزمائش (فتنے) سے محفوظ کر دیا جاتا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه أحمد (39/ 23951)، والترمذي (1621)، وابن حبان (4624) من طرق عن عبد الله بن المبارك، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حدیث حسن صحیح" کہا ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (39/23951)، ترمذی (1621) اور ابن حبان (4624) نے مختلف طرق سے عبداللہ بن المبارک کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد تقدم برقم (2448) من طريق عبد الله بن وهب عن أبي هانئ.
حوالہ / مصدر: یہ روایت نمبر (2448) پر عبداللہ بن وہب از ابوہانی کے طریق سے گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه أحمد (39/ 23951)، والترمذي (1621)، وابن حبان (4624) من طرق عن عبد الله بن المبارك، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حدیث حسن صحیح" کہا ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (39/23951)، ترمذی (1621) اور ابن حبان (4624) نے مختلف طرق سے عبداللہ بن المبارک کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد تقدم برقم (2448) من طريق عبد الله بن وهب عن أبي هانئ.
حوالہ / مصدر: یہ روایت نمبر (2448) پر عبداللہ بن وہب از ابوہانی کے طریق سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2669 سے ماخوذ ہے۔