المستدرك على الصحيحين
كتاب قسم الفيء— قرآن پاک سے مالِ غنیمت کی تقسیم کا حکم ثابت ہے
الَّذِي مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَنْمُو لَهُ عَمَلُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَيُؤَمَّنُ فِتْنَةَ الْقَبْرِ . باب: جو اللہ کی راہ میں سرحد پر پہرہ دیتے ہوئے مر جائے اس کا عمل قیامت تک بڑھتا رہتا ہے اور وہ عذابِ قبر سے محفوظ رہتا ہے
حدیث نمبر: 2670
أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن عبد الحميد بن جعفر، عن يزيد بن أبي حبيب، عن سُوَيد بن قيس، عن معاوية بن حُدَيج، عن أبي ذرّ، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "ليس من فرسٍ عَرَبي إلّا يُؤذَنُ له مع كلّ فَجْرٍ بدعوتَين، يقول: اللهم إنك خَوّلْتَني مَن خَوّلْتَني مِن بني آدم، فاجعلْني أحبَّ أهلِه ومالِه إليه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2638 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”کوئی بھی عربی گھوڑا ایسا نہیں ہے جسے ہر سحر کے وقت دو دعائیں مانگنے کی اجازت نہ دی جاتی ہو، وہ کہتا ہے: «اللَّهُمَّ إِنَّكَ خَوَّلْتَنِي مَنْ خَوَّلْتَنِي مِنْ بَنِي آدَمَ، فَاجْعَلْنِي أَحَبَّ أَهْلِهِ وَمَالِهِ إِلَيْهِ» ”اے اللہ! تو نے بنی آدم میں سے جس کے قبضے میں مجھے دیا ہے، مجھے اس کے نزدیک اس کے اہل اور مال سے زیادہ محبوب بنا دے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح موقوفًا على أبي ذرّ الغفاري كما بيناه برقم (2488)، فقد تقدم هناك من طريق رَوح بن عُبادة عن عبد الحميد بن جعفر.
درجۂ حدیث: یہ روایت حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ پر "موقوف" ہونے کی حیثیت سے "صحیح" ہے، جیسا کہ ہم نے نمبر (2488) کے تحت واضح کیا ہے۔
متابعات و شواہد: وہاں یہ روح بن عبادہ از عبدالحمید بن جعفر کے طریق سے گزر چکی ہے۔
وأخرجه أحمد (35/ 21497) عن يحيى بن سعيد القطان، والنسائي (4390) عن عمرو بن علي الفلّاس، عن يحيى بن سعيد القطان، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اس کی تخریج امام احمد نے (35/21497) میں یحییٰ بن سعید القطان کے واسطے سے کی ہے، اور امام نسائی نے (4390) میں عمرو بن علی الفلاس سے، انہوں نے یحییٰ بن سعید القطان سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: یہ روایت حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ پر "موقوف" ہونے کی حیثیت سے "صحیح" ہے، جیسا کہ ہم نے نمبر (2488) کے تحت واضح کیا ہے۔
متابعات و شواہد: وہاں یہ روح بن عبادہ از عبدالحمید بن جعفر کے طریق سے گزر چکی ہے۔
وأخرجه أحمد (35/ 21497) عن يحيى بن سعيد القطان، والنسائي (4390) عن عمرو بن علي الفلّاس، عن يحيى بن سعيد القطان، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اس کی تخریج امام احمد نے (35/21497) میں یحییٰ بن سعید القطان کے واسطے سے کی ہے، اور امام نسائی نے (4390) میں عمرو بن علی الفلاس سے، انہوں نے یحییٰ بن سعید القطان سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2670 سے ماخوذ ہے۔