أخبرنا إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعراني، حدثنا جدي، حدثنا إبراهيم بن حمزة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن محمد بن أبي حُميد، عن إسماعيل بن محمد بن سعد، عن أبيه، عن جده سعد بن مالك، قال: قال رسول الله ﷺ: "سَعادةٌ لابن آدم ثلاثةٌ، وشَقاوةٌ لابن آدم ثلاثةٌ، فمِن سعادة ابن آدم: المرأةُ الصالحة، والمَسكَنُ الصالح، والمَركَبُ الصالح، ومِن شقاوة ابن آدم المسكنُ الضّيِّق، والمرأةُ السُّوء، والمَركبُ السُّوء" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2640 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2640 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابنِ آدم کی خوش بختی کی تین چیزیں ہیں اور ابنِ آدم کی بدبختی کی بھی تین چیزیں ہیں، پس ابنِ آدم کی خوش بختی میں سے (یہ ہیں): نیک عورت، عمدہ مکان اور اچھی سواری، اور ابنِ آدم کی بدبختی میں سے (یہ ہیں): تنگ مکان، بری عورت اور بری سواری۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو العباس السَّيّاري، أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، حدثني زيد بن أَرْطاة، عن جُبير بن نُفَير، عن أبي الدرداء، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "ابغُوني ضُعفاءَكم، فإنكم إنما تُرزَقون وتُنصَرون بضعفائِكم" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”میرے لیے اپنے کمزوروں کو تلاش کرو (یعنی ان کا خیال رکھو)، کیونکہ تمہیں تمہارے کمزوروں کی وجہ سے ہی رزق دیا جاتا ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثني يحيى بن سليمان الجُعْفي، حدثني ابن وهب، حدثني حُيَيّ، عن أبي عبد الرحمن الحُبُلي، عن عبد الله بن عمرو: أنَّ رسول الله ﷺ خرج يومَ بدرٍ بثلاث مئةٍ وخمسةَ عشرَ من المُقاتِلة، كما خرج طالُوتُ، فدعا لهم رسول الله ﷺ حين خرج، فقال: "اللهم إنهم حُفاةٌ، فاحمِلْهم، اللهم إنهم عُراةٌ، فاكسُهُم اللهم إنهم جِياعٌ، فأشبِعْهم"، ففتح الله لهم يوم بدر، فانقَلَبوا وما منهم رجلٌ إلّا قد رجع بجَمَل أو جَمَلَين، واكتسَوْا وشَبِعُوا (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جنگِ بدر کے دن تین سو پندرہ جنگجوؤں کے ساتھ نکلے جیسے (سیدنا) طالوت نکلے تھے، جب رسول اللہ ﷺ روانہ ہوئے تو ان کے لیے دعا فرمائی اور عرض کیا: «اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ حُفَاةٌ، فَاحْمِلْهُمْ، اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ عُرَاةٌ، فَاكْسُهُمُ اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ جِيَاعٌ، فَأَشْبِعْهُمْ» ”اے اللہ! یہ لوگ ننگے پاؤں ہیں، تو انہیں سواری عطا فرما، اے اللہ! یہ برہنہ تن ہیں، تو انہیں لباس عطا فرما، اے اللہ! یہ بھوکے ہیں، تو انہیں سیر فرما۔“ چنانچہ اللہ نے انہیں جنگِ بدر کے دن فتح عطا فرمائی، اور وہ اس حال میں واپس ہوئے کہ ان میں سے ہر شخص ایک یا دو اونٹوں کے ساتھ لوٹا، ان کو لباس بھی ملا اور وہ شکم سیر بھی ہوئے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔