حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبيد الله بن المُنادي، حدثنا يونس بن محمد ابنُ المؤدِّب، حدثنا أبان بن يزيد عن قَتَادة، عن الحسن، عن الأسود بن سَريع: أنَّ رسول الله ﷺ بعثَ سريةً يومَ حُنين (1) فقاتَلُوا المشركين، فأفضى بهم القتلُ إلى الذُّرِّية، فلما جاؤوا قال النبي ﷺ "ما حَمَلَكم على قتل الذُّرِّية؟ " قالوا: يا رسول الله، إنما كانوا أولادَ المشركين، قال: "وهل خيارُكم إلَّا أولادُ المشركين؟ والذي نفسُ محمدٍ بيَدِه ما من نَسَمَةٍ تُولد إلَّا على الفِطْرة، حتى يُعرِبَ عنها لِسانُها" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ حنین (یا کسی معرکے) کے دن ایک دستہ بھیجا، انہوں نے مشرکین سے قتال کیا یہاں تک کہ قتل و غارت میں بچوں (ذریت) تک نوبت پہنچ گئی، جب وہ واپس آئے تو نبی کریم ﷺ نے پوچھا: ”تمہیں بچوں کو قتل کرنے پر کس چیز نے ابھارا؟“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ مشرکین کی اولاد ہی تو تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارے بہترین لوگ مشرکین کی ہی اولاد نہیں ہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے! جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے وہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کی زبان (بات کرنے کے قابل ہو کر) اس کا اظہار کرتی ہے۔“
حدَّثَناه أبو بكر محمد بن المؤمَّل بن الحَسَن (1)، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا عمرو بن عَون، حدثنا هُشَيم، أخبرنا يونس بن عُبَيد، عن الحسن، قال: حدثنا الأسودُ بن سَريع، قال: كنا في غزوة لنا، فذكر الحديثَ بنحوه (2). حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2566 - تابعه يونس عن الحسن ثنا الأسود بهذا على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2566 - تابعه يونس عن الحسن ثنا الأسود بهذا على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ سے اس کے مانند مروی ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔