کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: بغیر کوئی نماز پڑھے جنت میں داخل ہونا
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سَلَمة، أخبرنا محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة: أنَّ عمرو بن أُقيش كان له رِبًا في الجاهلية، فكَرِهَ أن يُسلِمَ حتى يأخُذه، فجاء يوم أُحدٍ، فقال: أين بنو عمِّي، فقالوا: بأُحُد، فقال: أين فلانٌ؟ قالوا: بأُحُد، قال: أين فلانٌ؟ قالوا: بأُحُد، فلَبِسَ لَأمَتَه، ورَكِبَ فرسَه ثم توجّه قِبَلَهم، فلما رآه المسلمون قالوا: إليك عنّا يا عمرو، قال: إني آمنتُ، فقاتلَ حتى جُرِح، فحُمِل إلى أهله جريحًا، فجاءه سعد بن معاذ، فقال لأختِه سَلِيهِ: حَميَّةً لقومِك أو غضبًا لهم، أم غضبًا الله ورسولِه؟ فقال: بل غضبًا الله ورسوله، فماتَ فدخل الجنةَ، وما صلَّى الله صلاةً (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2533 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمرو بن اقییش رضی اللہ عنہ کا دورِ جاہلیت کا کچھ سود (لوگوں کے ذمے) باقی تھا، اس لیے وہ اسلام لانے سے کتراتے تھے کہ پہلے وہ سود وصول کر لیں۔ جب غزوہ احد کا دن آیا تو انہوں نے پوچھا: میرے چچا زاد بھائی کہاں ہیں؟ لوگوں نے کہا: احد میں۔ انہوں نے پوچھا: فلاں کہاں ہے؟ کہا: احد میں۔ انہوں نے (اسی وقت) اپنی زرہ پہنی، گھوڑے پر سوار ہوئے اور احد کا رخ کیا۔ جب مسلمانوں نے انہیں دیکھا تو کہا: اے عمرو! ہم سے دور رہو (کیونکہ تم مسلمان نہیں ہو)۔ انہوں نے کہا: میں ایمان لا چکا ہوں، پھر انہوں نے قتال کیا یہاں تک کہ زخمی ہو گئے اور انہیں زخمی حالت میں ان کے گھر لایا گیا۔ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور ان کی بہن سے کہا: ان سے پوچھو کہ اپنی قوم کی غیرت میں لڑے ہو یا اللہ اور اس کے رسول کی خاطر؟ انہوں نے جواب دیا: بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی خاطر۔ پھر ان کا انتقال ہو گیا اور وہ جنت میں داخل ہوئے حالانکہ انہوں نے (اسلام لانے کے بعد) اللہ کے لیے ایک بھی نماز نہیں پڑھی تھی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2565
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة الليثي أبو سلمة: هو ابن عبد الرحمن ابن عوف. وقد حسَّنه الحافظ ابن حجر في "الإصابة" 4/ 609.» [ترقيم الرساله 2565] [ترقيم الشركة 2548] [ترقيم العلميه 2533]
حدثني علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا عُبيد بن شَريك البَزار، حدثنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا موسى بن يعقوب الزَّمْعي، عن أبي حازم، عن سهل بن سعد، قال: قال رسول الله ﷺ: ثِنْتَانِ لا تُرَدّان -: أو قال ما تُرَدّان-: الدعاءُ عند النَّداء، أو عند البَأْسِ حين (2) يُلحِمُ بعضُهم بعضًا" (3). قال موسى بن يعقوب: وحدثني رِزْق بن سعيد بن عبد الرحمن المدني (1)، عن أبي حازم، عن سَهْل بن سعد، عن النبي ﷺ، قال: "وتحتَ المطَر" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2534 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دو دعائیں رد نہیں کی جاتیں (یا فرمایا بہت کم رد ہوتی ہیں): ایک اذان کے وقت، اور دوسری جنگ کے اس وقت جب دونوں لشکر ایک دوسرے میں گتھم گتھا ہو جائیں۔“ اور ایک دوسری روایت میں اضافہ ہے کہ ”بارش کے وقت بھی (دعا رد نہیں ہوتی)۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2566
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لجهالة رِزْق بن سعيد
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لجهالة رِزْق بن سعيد، كما قال الحافظ ابن حجر في "نتائج الأفكار" 1/ 369 في المجلس السابع والسبعين.» [ترقيم الرساله 2566] [ترقيم الشركة 2549] [ترقيم العلميه 2534]