کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: بہترین پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے لیے سب سے بہتر ہو
أخبرنا الحسن بن حَليم المروَزي، حدثنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا حَيوة بن شُريح، حدثني شُرَحْبيل بن شَريك، عن أبي عبد الرحمن الحُبُلي، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي ﷺ، قال: "خيرُ الأصحابِ عند الله خيرُهم لصاحبه، وخيرُ الجِيران عند الله خيرُهم لجارِه" (3)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2490 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2490 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک بہترین ساتھی وہ ہے جو اپنے ساتھی کے لیے سب سے بہتر ہو، اور اللہ کے نزدیک بہترین پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے لیے سب سے بہتر ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي، أخبرنا رَوح بن عُبادة، أخبرنا ابن جُرَيج، أخبرني جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جابر، قال: شكا ناسٌ إلى النبي ﷺ المَشْيَ فدعا بهم، وقال: "عليكم بالنَّسَلانِ"، فنَسَلْنا فوجَدْناه أخَفَّ علينا (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2491 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2491 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے نبی کریم ﷺ سے پیدل چلنے کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے انہیں بلا کر فرمایا: ”تم پر تیز چلنا («نَسَلان») لازم ہے“، چنانچہ ہم تیز قدموں سے چلے تو ہم نے اسے اپنے لیے زیادہ آسان محسوس کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔