المستدرك على الصحيحين
كتاب : الجهاد— جہاد کا بیان
خَيْرُ الْجِيرَانِ خَيْرُهُمْ لِجَارِهِ باب: بہترین پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے لیے سب سے بہتر ہو
حدیث نمبر: 2521
أخبرنا الحسن بن حَليم المروَزي، حدثنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا حَيوة بن شُريح، حدثني شُرَحْبيل بن شَريك، عن أبي عبد الرحمن الحُبُلي، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي ﷺ، قال: "خيرُ الأصحابِ عند الله خيرُهم لصاحبه، وخيرُ الجِيران عند الله خيرُهم لجارِه" (3)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2490 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک بہترین ساتھی وہ ہے جو اپنے ساتھی کے لیے سب سے بہتر ہو، اور اللہ کے نزدیک بہترین پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے لیے سب سے بہتر ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده قوي من أجل شرحبيل بن شريك، فهو صدوق لا بأس به. أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعَبْدان: هو عبد الله بن عثمان بن جَبَلة، وعبدان لقبه، وعبد الله: هو ابن المبارك، وأبو عبد الرحمن الحُبُلي: هو عبد الله بن يزيد المَعافِري.
درجۂ حدیث: شرحبیل بن شریک کی وجہ سے سند قوی ہے، وہ صدوق ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: ابو الموجہ سے مراد محمد بن عمرو الفزاری، عبدان سے مراد عبد اللہ بن عثمان، اور ابو عبد الرحمن الحبلی سے مراد عبد اللہ بن یزید المعافری ہیں۔
وأخرجه الترمذي (1944)، وابن حبان (518) و (519) من طرق عن عبد الله بن المبارك، بهذا الإسناد. وحسَّنه الترمذي.
حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (1944) اور ابن حبان نے ابن مبارک کے طریق سے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن کہا ہے۔
وسيتكرر برقم (7482)، وتقدَّم برقم (1637) من طريق عبد الله بن يزيد المقرئ عن حيوة.
حوالہ / مصدر: یہ دوبارہ نمبر (7482) پر آئے گی اور نمبر (1637) پر گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: شرحبیل بن شریک کی وجہ سے سند قوی ہے، وہ صدوق ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: ابو الموجہ سے مراد محمد بن عمرو الفزاری، عبدان سے مراد عبد اللہ بن عثمان، اور ابو عبد الرحمن الحبلی سے مراد عبد اللہ بن یزید المعافری ہیں۔
وأخرجه الترمذي (1944)، وابن حبان (518) و (519) من طرق عن عبد الله بن المبارك، بهذا الإسناد. وحسَّنه الترمذي.
حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (1944) اور ابن حبان نے ابن مبارک کے طریق سے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن کہا ہے۔
وسيتكرر برقم (7482)، وتقدَّم برقم (1637) من طريق عبد الله بن يزيد المقرئ عن حيوة.
حوالہ / مصدر: یہ دوبارہ نمبر (7482) پر آئے گی اور نمبر (1637) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2521 سے ماخوذ ہے۔