حدیث نمبر: 2522
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي، أخبرنا رَوح بن عُبادة، أخبرنا ابن جُرَيج، أخبرني جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جابر، قال: شكا ناسٌ إلى النبي ﷺ المَشْيَ فدعا بهم، وقال: "عليكم بالنَّسَلانِ"، فنَسَلْنا فوجَدْناه أخَفَّ علينا (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2491 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے نبی کریم ﷺ سے پیدل چلنے کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے انہیں بلا کر فرمایا: ”تم پر تیز چلنا («نَسَلان») لازم ہے“، چنانچہ ہم تیز قدموں سے چلے تو ہم نے اسے اپنے لیے زیادہ آسان محسوس کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2522
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،ابن جُرَيج هو عبد الملك بن عبد العزيز المكي، وجعفر بن محمد: هو ابن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب.» [ترقيم الرساله 2522] [ترقيم الشركة 2505] [ترقيم العلميه 2491]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. ابن جُرَيج هو عبد الملك بن عبد العزيز المكي، وجعفر بن محمد: هو ابن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابن جریج سے مراد عبد الملک بن عبد العزیز المکی اور جعفر بن محمد سے مراد امام جعفر صادق ہیں۔
وأخرجه البيهقي 5/ 256 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی نے حاکم نیسابوری کی سند سے روایت کیا ہے۔
وقد تقدَّم برقم (1636) من طريق الحارث بن أبي أسامة عن روح بن عُبادة.
حوالہ / مصدر: یہ پہلے نمبر (1636) پر حارث بن ابی اسامہ عن روح بن عبادہ کے طریق سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2522 سے ماخوذ ہے۔