أخبرنا أبو عمرو بن إسماعيل، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا محمد ابن أبي صفوان الثقفي، حدثنا عبد السلام بن هاشم، حدثنا عثمان بن سعد الكاتب، عن أنس بن مالك قال: كان النبي ﷺ ينزل منزلًا إلّا وَدَّعَه بركعتين (2).
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه، وعثمان بن سعد ممّن يُجمع حديثُه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2492 - لا فإن عبد السلام كذبه الفلاس وعثمان لين
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه، وعثمان بن سعد ممّن يُجمع حديثُه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2492 - لا فإن عبد السلام كذبه الفلاس وعثمان لين
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب بھی کسی مقام پر قیام فرماتے تو وہاں سے روانہ ہوتے وقت اسے دو رکعتوں کے ساتھ الوداع کہتے تھے۔
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور عثمان بن سعد ان راویوں میں سے ہیں جن کی حدیث کو جمع کیا جاتا ہے۔
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور عثمان بن سعد ان راویوں میں سے ہیں جن کی حدیث کو جمع کیا جاتا ہے۔
حدثنا الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا بشر بن المفضَّل، حدثنا عاصم بن محمد بن زيد بن عبد الله بن عمر بن الخطاب، قال: سمعت أبي يقول: قال ابن عمر قال نبيُّ الله ﷺ: "لو يَعلمُ الناسُ ما في الوَحْدةِ ما أعلَمُ، إنْ (3) يسيرُ الراكبُ بليلٍ وحدَه أبدًا" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2493 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2493 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر لوگ تنہائی کے بارے میں وہ (نقصانات) جان لیتے جو میں جانتا ہوں، تو کوئی بھی سوار رات کے وقت کبھی اکیلا سفر نہ کرتا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العنبري وأبو بكر محمد بن جعفر المزكِّي، قالا: حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العبدي، حدثنا عبد الله بن محمد النُّفَيلي، حدثنا عُبيد الله بن عمرو الرَّقِّي، عن عبد الكريم، عن عِكْرمة، عن ابن عباس، قال: خرج رجلٌ من خيبَرَ فتبعه رجلان ورجلٌ يَتلُوهما، يقول: ارجِعا، حتى أَدْرَكَهُما فرَدَّهما، ثم قال: إنَّ هذّين شيطانان، فاقرأْ على رسولِ الله ﷺ السلامَ، وأعلِمْه أنّا في جَمْع صدقاتنا لو كانت تصلُح له لبَعثْنا بها إليه، قال: فلما قَدِمَ على النبي ﷺ حدَّثه، فنهى عند ذلك عن الخَلْوة (2).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2494 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2494 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص خیبر سے نکلا تو دو آدمی اس کے پیچھے ہولیے اور ایک تیسرا شخص ان کے پیچھے یہ کہتا ہوا آ رہا تھا کہ ”تم دونوں واپس لوٹ جاؤ“، یہاں تک کہ اس نے انہیں پا لیا اور واپس بھیج دیا، پھر اس نے (پہلے شخص سے) کہا کہ ”یہ دونوں شیطان تھے، تم رسول اللہ ﷺ کو میرا سلام کہنا اور انہیں بتانا کہ ہم اپنے صدقات جمع کر رہے ہیں، اگر وہ آپ ﷺ کے لیے (استعمال کرنا) حلال ہوتے تو ہم ضرور آپ کی طرف بھیج دیتے“، راوی کہتے ہیں کہ جب وہ شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو یہ واقعہ سنایا تو اس وقت آپ ﷺ نے تنہا سفر کرنے سے منع فرما دیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔