کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سفر پر جانے والے کو رخصت کرنے اور اس کے لیے دعا کرنے کی سنت۔
أخبرني أبو عمرو بن إسماعيل، حدثنا محمد بن إسحاق الإمام، حدثنا علي بن سهل الرَّمْلي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا حنظلة بن أبي سفيان، أنه سمع القاسم بن محمد يقول: كنتُ عند ابنِ عمر، فجاءه رجلٌ، فقال: أردتُ سفرًا، فقال عبد الله: انتظرْ حتى أُودِّعك كما كان رسول الله ﷺ يُودِّعُنا: "أستودِعُ اللهَ دِينَكَ وأمانَتَك وخَواتِيمَ عَمَلِك" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2475 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2475 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا: میرا سفر کا ارادہ ہے، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ٹھہرو تاکہ میں تمہیں اسی طرح رخصت کروں جیسے رسول اللہ ﷺ ہمیں رخصت فرمایا کرتے تھے: «أَسْتَوْدِعُ اللهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ» ”میں تمہارا دین، تمہاری امانت اور تمہارے اعمال کے خاتمے کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
وقد حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المُثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا عبد الله بن داود، عن عبد العزيز بن عمر بن عبد العزيز، عن إسماعيل بن جَرِير، عن قَزَعَةَ، قال: قال لي ابن عمر: أُودِّعُك كما ودَّعَني رسولُ الله ﷺ: "أَستَودِعُ اللَّهَ دِينَك وأمانتك وخَواتِيمَ عَمَلِك" (1). وله شاهدٌ عن أنس بن مالك وعبد الله بن يزيد الأنصاري، أما حديث أنس:
حافظ طلحہ بابر
قزعہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے فرمایا: میں تمہیں اسی طرح رخصت کرتا ہوں جیسے رسول اللہ ﷺ نے مجھے رخصت کیا تھا: «أَسْتَوْدِعُ اللهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ» ”میں تمہارا دین، تمہاری امانت اور تمہارے اعمال کے خاتمے کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔“
فحدَّثَناه أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الخَضِر بن أبان الهاشمي، حدثنا سيار بن حاتم، حدثنا جعفر بن سليمان، عن ثابت، عن أنس، قال: جاء رجلٌ إلى النبي ﷺ، فقال: يا رسولَ الله، إني أريد سفرًا فزَوِّدني، قال: "زَوَّدَكَ اللهُ التقوى" قال: زدني، قال: "وغَفَر ذَنْبَك" قال: زدني بأبي أنت وأمي، قال: "ويَسَّر لك الخيرَ حيثُما كنتَ" (1). وأما حديث عبد الله بن يزيد الأنصاري:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2477 - سكت عنه الذهبي في التلخيص_x000D_ وَأَمَّا حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2477 - سكت عنه الذهبي في التلخيص_x000D_ وَأَمَّا حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرا سفر کا ارادہ ہے، مجھے کچھ زادِ راہ عطا فرمائیے (دعا دیجیے)، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تمہیں تقویٰ کا زادِ راہ عطا فرمائے“، اس نے کہا: کچھ اور اضافہ فرمائیے، فرمایا: ”اور اللہ تمہارے گناہ معاف فرمائے“، اس نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان! کچھ مزید اضافہ فرمائیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور تم جہاں کہیں بھی ہو، اللہ تمہارے لیے خیر کو آسان فرما دے۔“
فحدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إسحاق بن الحسن الحَرْبي، حدثنا عفان، حدثنا حماد بن سَلَمة، أخبرنا أبو جعفر الخَطْمي، عن محمد بن كعب القُرَظي، قال: دُعيَ عبدُ الله بن يزيد إلى طعامٍ، فلما جاء قال: كان رسولُ الله ﷺ إذا وَدَّع جيشًا قال: أَستَودِعُ الله دينَكُم وأمانتكم وخَواتِيمَ أعمالِكُم" (1).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن کعب قرظی سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ کو کھانے کی دعوت دی گئی، جب وہ تشریف لائے تو فرمایا: رسول اللہ ﷺ جب کسی لشکر کو رخصت فرماتے تو یہ دعا دیتے تھے: «أَسْتَوْدِعُ اللهَ دِينَكُمْ وَأَمَانَتَكُمْ وَخَوَاتِيمَ أَعْمَالِكُمْ» ”میں تمہارا دین، تمہاری امانت اور تمہارے اعمال کے خاتمے کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔“