المستدرك على الصحيحين
كتاب : الجهاد— جہاد کا بیان
سُنَّةُ التَّوْدِيعِ لِمَنْ يُرِيدُ السَّفَرَ وَالدُّعَاءُ لَهُ باب: سفر پر جانے والے کو رخصت کرنے اور اس کے لیے دعا کرنے کی سنت۔
حدیث نمبر: 2506
أخبرني أبو عمرو بن إسماعيل، حدثنا محمد بن إسحاق الإمام، حدثنا علي بن سهل الرَّمْلي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا حنظلة بن أبي سفيان، أنه سمع القاسم بن محمد يقول: كنتُ عند ابنِ عمر، فجاءه رجلٌ، فقال: أردتُ سفرًا، فقال عبد الله: انتظرْ حتى أُودِّعك كما كان رسول الله ﷺ يُودِّعُنا: "أستودِعُ اللهَ دِينَكَ وأمانَتَك وخَواتِيمَ عَمَلِك" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2475 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا: میرا سفر کا ارادہ ہے، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ٹھہرو تاکہ میں تمہیں اسی طرح رخصت کروں جیسے رسول اللہ ﷺ ہمیں رخصت فرمایا کرتے تھے: «أَسْتَوْدِعُ اللهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ» ”میں تمہارا دین، تمہاری امانت اور تمہارے اعمال کے خاتمے کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه النسائي (8754) و (10279) من طريقين عن الوليد بن مسلم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی نے (8754، 10279) میں ولید بن مسلم کے دو طرق سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد تقدَّم برقم (1634) من طريق إسحاق بن سليمان الرازي عن حنظلة. وانظر ما بعده.
حوالہ / مصدر: یہ روایت پہلے نمبر (1634) پر اسحاق بن سلیمان الرازی عن حنظلہ کے طریق سے گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه النسائي (8754) و (10279) من طريقين عن الوليد بن مسلم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی نے (8754، 10279) میں ولید بن مسلم کے دو طرق سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد تقدَّم برقم (1634) من طريق إسحاق بن سليمان الرازي عن حنظلة. وانظر ما بعده.
حوالہ / مصدر: یہ روایت پہلے نمبر (1634) پر اسحاق بن سلیمان الرازی عن حنظلہ کے طریق سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2506 سے ماخوذ ہے۔