حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني يحيى بن أيوب، عن زَبّان بن فائد، عن سهل بن معاذ بن أنس، عن أبيه، عن رسول الله ﷺ قال: "لَأَنْ أُشيِّعَ مجاهدًا في سبيلِ الله، فأَكُفَّه على رَحْلِهِ غَدْوةً أو رَوْحةً، أحبُّ إليَّ من الدنيا وما فيها" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2479 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2479 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سہل بن معاذ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے اور وہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کسی مجاہد کو اللہ کی راہ میں رخصت کرنا اور صبح یا شام کے وقت اسے اس کی سواری پر بٹھانے میں مدد کرنا، مجھے دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے زیادہ محبوب ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو أحمد الحسين بن علي التَّميمي، حدثنا أحمد بن محمد بن الحسين، حدثنا عمرو بن زرارة، حدثنا زياد بن عبد الله، عن محمد بن إسحاق، عن ثَور ابن يزيد، عن عكرمة، عن ابن عبَّاس، قال: مَشى معهم رسولُ الله ﷺ إلى بَقيع الغَرْقَد حين وجَّهَهم، ثم قال: "انطَلِقوا على اسمِ الله، اللهمَّ أَعِنْهُم" (3). قد احتجَّ البخاري بثور بن يزيد وعِكْرمة، واحتجَّ مسلم بمحمد بن إسحاق، و
هذا حديث غريب صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2480 - صحيح
هذا حديث غريب صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2480 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب (صحابہ کے ایک لشکر کو) روانہ فرمایا تو ان کے ساتھ بقیع الغرقد تک پیدل چلے، پھر فرمایا: ”اللہ کے نام کے ساتھ روانہ ہو جاؤ، اے اللہ! ان کی مدد فرما۔“
امام بخاری نے ثور بن یزید اور عکرمہ سے احتجاج کیا ہے جبکہ امام مسلم نے محمد بن اسحاق سے، اور یہ ایک غریب صحیح حدیث ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
امام بخاری نے ثور بن یزید اور عکرمہ سے احتجاج کیا ہے جبکہ امام مسلم نے محمد بن اسحاق سے، اور یہ ایک غریب صحیح حدیث ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔