کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جب دشمن تمہیں روک دیں تو تیروں سے مقابلہ کرو اور اپنے تیر محفوظ رکھو۔
أخبرني أبو الحسن أحمد بن محمد بن سَلَمة، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أحمد بن عبد الله بن يونس، حدثنا عبد الرحمن بن الغَسيل، عن العباس بن سهل بن سعد، عن أبيه. وعن حمزة بن أبي أُسَيد الساعِدي، عن أبيه؛ قالا: لما التقَينا نحنُ والقومُ يومَ بدرٍ، قال لنا رسول الله ﷺ: "إذا أكثَبُوكم فارمُوهم بالنَّبْل، واستَبْقُوا نَبْلَكم" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، وقد أخرجه البخاري.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2471 - أخرجه البخاري وهو على شرط مسلم أيضا
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، وقد أخرجه البخاري.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2471 - أخرجه البخاري وهو على شرط مسلم أيضا
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سہل بن سعد اور سیدنا ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب بدر کے دن ہمارا اور دشمن کا آمنا سامنا ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: ”جس وقت وہ تمہارے قریب آ جائیں تو ان پر تیر اندازی کرو اور اپنے تیروں کو بچا کر رکھو (تاکہ ضائع نہ ہوں)۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے اور امام بخاری نے اسے روایت کیا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے اور امام بخاری نے اسے روایت کیا ہے۔
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل، حدثنا جدّي، حدثنا إبراهيم (1) ابن المنذر الحِزامي، حدثنا إبراهيم بن سعد، عن إسماعيل بن محمد بن سعد، عن عامر بن سعد، عن سعد، قال: قال رسول الله ﷺ يومَ أُحد للمسلمين: "انْبُلُوا سعدًا، ارْمِ يا سعدُ، رَمى الله لك، ارمِ فِداكَ أبي وأمي" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2472 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2472 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ احد کے دن مسلمانوں سے فرمایا: ”سعد کو تیر پکڑاؤ، اے سعد! تیر چلاؤ، اللہ تمہارا نشانہ درست رکھے، تیر چلاؤ، تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل، حدثنا جدّي، حدثنا إبراهيم ابن المُنذر الحِزامي، حدثنا معن بن عيسى، حدثنا محمد بن عبَّاد بن سعد بن أبي وقّاص، عن عائشة بنت سعد، عن أبيها سعد بن أبي وقّاص، أنه قال: ألَا هلّ أتَى رسولَ الله أنّي … حَميتُ صَحَابَتِي بِصُدورِ نَبْلي (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2473 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2473 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ بنت سعد اپنے والد سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے (اشعار میں) کہا: ”کیا رسول اللہ ﷺ کو یہ خبر پہنچی ہے کہ میں نے اپنے تیروں کے ذریعے اپنے ساتھیوں کی حفاظت کی ہے؟“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا الحسن بن حَليم المروَزي، حدثنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا المسعودي. وحدثني علي بن حَمْشاذَ العَدْل، أخبرنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا المسعودي. وحدثنا أبو سعيد عمرو بن محمد بن منصور العَدْل، حدثنا عمر بن حفص السَّدُوسي، حدثنا عاصم بن علي، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي، عن أبي بكر بن حفص، عن عبد الله بن عامر بن ربيعة، عن أبيه -وكان بدريًّا- قال: لقد كان رسولُ الله ﷺ يَبعثُنا في السَّرِيَّة، ما لنا زاد إلّا السَّلْفَ من التمر نَقسِمُه قَبْضةً قَبْضةً، حتى نَصيرَ إلى تمرةٍ تمرةٍ، قلتُ: يا أبتِ ما عسى أن تُغنيَ عنكم التمرةُ؟ قال: لا تَقُلْ ذلك يا بني، فلم نَعْدُ أن فَقَدْناها فاحتَجْنا إليها (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2474 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2474 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ اپنے والد (جو بدری صحابی تھے) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب ہمیں کسی سریہ (لشکر) میں روانہ فرماتے تو ہمارے پاس کھجوروں کے تھیلے کے علاوہ کوئی زادِ راہ نہ ہوتا تھا، ہم انہیں مٹھی مٹھی بھر کر تقسیم کرتے یہاں تک کہ نوبت ایک ایک کھجور تک پہنچ جاتی، میں نے پوچھا: ابا جان! ایک کھجور آپ کو کیا فائدہ دیتی ہوگی؟ انہوں نے فرمایا: میرے بیٹے! ایسا نہ کہو، کیونکہ جب وہ بھی ختم ہو گئی تو ہمیں اس کی قدر معلوم ہوئی اور اس کی اشد ضرورت محسوس ہوئی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔