أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا ثَوْر بن يزيد، عن عبد الرحمن بن عائذ، عن مجاهد، عن ابن عمر، أنَّ النبي ﷺ قال: "أَلا أنبِّئكُم بليلةٍ أفضلَ من ليلةِ القَدْرِ: حارِسٌ حَرَسَ في أرضِ خوفٍ، لعلّه أن لا يَرجِعَ إلى أهلِه" (2).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وقد أَوقفَه وكيعُ بن الجرّاح عن ثور، وفي يحيى بن سعيد قُدوة (3).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وقد أَوقفَه وكيعُ بن الجرّاح عن ثور، وفي يحيى بن سعيد قُدوة (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی رات کے بارے میں نہ بتاؤں جو شبِ قدر سے بھی افضل ہے؟ وہ اس پہرے دار کی رات ہے جو خوف کے مقام پر پہرہ دیتا ہے اور اسے یہ امید نہیں ہوتی کہ وہ اپنے گھر والوں کی طرف واپس لوٹ سکے گا۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني محمد بن أحمد العاصِمي، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا محمد بن عبد الله المُخرِّمي ومحمد بن إسماعيل الأحْمَسي، قالا: حدثنا وكيع، حدثنا ثَوْر بن يزيد، فساقَه بإسنادِه موقوفًا (4).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2424 - على شرط البخاري
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2424 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی روایت موقوفاً بھی مروی ہے۔
أخبرني عبد الله بن محمد بن إسحاق الخُزاعي بمكة، حدثنا أبو يحيى بن أبي مَسَرّة، حدثنا عبد الله بن يزيد المُقرئ، حدثنا كَهْمَس بن الحسن، حدثنا مُصعب بن ثابت، عن عبد الله بن الزُّبَير، قال: قال عثمان بن عفّان وهو يخطُب على المِنبَر: إني أحدِّثُكم حديثًا لم يَمنعْني أن أحدِّثَكم به إلّا الضَّنُّ بكم، سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقولُ: "حَرْسُ ليلةٍ في سبيلِ الله، أفضلُ من ألف ليلةٍ يُقامُ ليلُها ويُصامُ (1) نهارُها" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2426 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2426 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ منبر پر خطبہ دیتے ہوئے فرما رہے تھے: میں تمہیں ایک ایسی حدیث سنا رہا ہوں جسے بیان کرنے سے مجھے صرف تمہاری (جہاد کی) کثرتِ حرص کا ڈر روکتا رہا ہے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ کی راہ میں ایک رات کا پہرہ دینا، ایسی ایک ہزار راتوں سے بہتر ہے جن کی راتوں میں قیام اور دنوں میں روزہ رکھا جائے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ ومحمد بن القاسم العَتَكي، قالا: حدثنا السَّرِيّ بن خُزيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن حُميد، عن أنس، أنَّ النبيَّ ﷺ قال: "جاهِدُوا المشرِكينَ بأموالِكُم وأنفُسِكم وألسِنَتِكُم" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2427 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2427 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مشرکین سے اپنے مالوں، اپنی جانوں اور اپنی زبانوں کے ساتھ جہاد کرو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا علي بن عيسى الحِيري، حدثنا أحمد بن نَجْدة، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، عن أبيه، عن خارجة بن زيد، عن زيد بن ثابت، قال: كنتُ إلى جنبِ رسول الله ﷺ فَغَشِيَتْه السكينةُ، فَوَقَعَت فَخِذُ رسول الله ﷺ على فَخِذِي، فما وجدتُ ثِقَلَ شيءٍ أَثْقَلَ مِن فَخَذِ رسول الله ﷺ على فَخَذِي، ثم سُرِّيَ عنه، فقال: "اكتُبْ" فكتبتُ في كَتِفٍ: (لَا يَستوي القاعدونَ مِن المؤمنين والمُجاهِدُون في سبيلِ اللهِ) إلى آخر الآية، فقام ابنُ أم مَكتومٍ، وكان رجلًا أعمى، لما سَمِعَ فضيلةَ المجاهدين، فقال: يا رسولَ الله، فكيف بمن لا يستطيعُ الجهادَ من المؤمنين؟ فلما قضى كلامه غَشِيَتْ رسولَ الله ﷺ السكينةُ، فوقعتْ فَخِذُه على فَخِذِي، فوجدتُ من ثِقَلِها في المرّةِ الثانية كما وجَدتُ في المرّةِ الأولى، ثم سُرِّيَ عن رسولِ الله ﷺ فقال: "اقرأ يا زيدُ" فقرأتُ: ﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ﴾، فقال رسول الله ﷺ: ﴿غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ﴾ الآية كلَّها [النساء: 95]، قال زيد: أنزلها اللهُ وحدَها، فألحقتُها، والذي نفسِي بيدِه، لكأني أنظُر إلى مُلحَقِها عند صَدْعٍ في كَتِفٍ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2428 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2428 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا کہ آپ ﷺ پر سکینہ (وحی کی کیفیت) طاری ہو گئی، تو رسول اللہ ﷺ کی ران میری ران پر آ پڑی، میں نے رسول اللہ ﷺ کی ران کے بوجھ سے زیادہ بھاری کوئی چیز محسوس نہیں کی، پھر جب وہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”لکھو“، چنانچہ میں نے شانے کی ہڈی پر لکھا: ﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ ”ایمان والوں میں سے (گھروں میں) بیٹھ رہنے والے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے برابر نہیں ہیں“ [سورة النساء: 95] آیت کے آخر تک۔ جب سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے، جو کہ نابینا تھے، مجاہدین کی فضیلت سنی تو وہ کھڑے ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! ان مومنین کا کیا حکم ہے جو جہاد کی استطاعت نہیں رکھتے؟ جب انہوں نے اپنی بات مکمل کی تو رسول اللہ ﷺ پر دوبارہ سکینہ طاری ہو گئی اور آپ ﷺ کی ران میری ران پر آ پڑی، میں نے دوسری مرتبہ بھی وہی بوجھ محسوس کیا جو پہلی بار محسوس کیا تھا، پھر جب آپ ﷺ سے وہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے زید! پڑھو“، میں نے پڑھا: ﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ﴾، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ﴿غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ﴾ ”سوائے معذور لوگوں کے“ (پھر پوری آیت مکمل فرمائی)۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ الفاظ الگ سے نازل فرمائے تو میں نے انہیں پہلے والے الفاظ کے ساتھ ملحق کر دیا، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! گویا میں ابھی بھی شانے کی ہڈی کے شگاف کے پاس ان ملحقہ الفاظ کو دیکھ رہا ہوں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔