حدیث نمبر: 2460
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن يزيد بن أبي حَبيب، عن يزيد بن أبي سعيد مولى المَهْري، عن أبيه، عن أبي سعيد الخُدْري: أنَّ رسول الله ﷺ بَعَثَ إلى بني لِحْيانَ، وقال: "لِيَخْرُجْ مِن كلِّ رجُلَين رجلٌ" ثم قال للقاعد: "أيُّكم خَلَفَ الخارجَ في أهلِه ومالِه بخَيرٍ، كان له مثلُ نصفِ أجرِ الخارجِ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما أخرجَ مسلمٌ وحده (2) حديثَ يحيى بن أبي كثير، عن أبي سلمة، عن بُسر ابن سعيد، عن زيد بن خالد: "من جَهّز غازيًا في سبيلِ الله فقد غَزَا" (1).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو لِحین کی طرف ایک لشکر بھیجا اور فرمایا: ”ہر دو مردوں میں سے ایک شخص (جہاد کے لیے) نکلے“، پھر پیچھے رہ جانے والے سے فرمایا: ”تم میں سے جو کوئی پیچھے رہ کر باہر جانے والے غازی کے اہل و عیال اور اس کے مال کی بہتر طریقے سے دیکھ بھال کرے گا، اسے غازی کے اجر کے نصف کے برابر اجر ملے گا“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، البتہ امام مسلم نے تنہا سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ کی حدیث روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں کسی غازی کا سامان تیار کیا، اس نے گویا خود غزوہ کیا“۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2460
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل يزيد بن أبي سعيد مولى المهري وأبيه.» [ترقيم الرساله 2460] [ترقيم الشركة 2442]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل يزيد بن أبي سعيد مولى المهري وأبيه.
درجۂ حدیث: یزید بن ابی سعید اور ان کے والد کی وجہ سے یہ سند حسن ہے۔
وأخرجه أحمد 17/ (11110)، ومسلم (1896)، وأبو داود (2510)، وابن حبان (4629) من طرق عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، مسلم (1896)، ابوداؤد اور ابن حبان نے عبداللہ بن وہب کی سند سے روایت کیا ہے۔
اہم نکتہ: چونکہ یہ صحیح مسلم میں ہے، اس لیے حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کی بھول ہے۔
وأخرجه أحمد 18/ (11527) من طريق عبد الله بن لهيعة، عن يزيد بن أبي حبيب، به.
حوالہ / مصدر: امام احمد (11527) نے اسے ابن لہیعہ عن یزید بن ابی حبیب کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 17/ (11301) و 18/ (11461)، ومسلم (1896)، وابن حبان (4729) من طريق يحيى بن أبي كثير، عن أبي سعيد المهري، به. بلفظ: "لينبعثْ من كل رجُلين أحدهما، والأجر بينهما".
حوالہ / مصدر: امام احمد، مسلم اور ابن حبان نے یحییٰ بن ابی کثیر کے طریق سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا: "ہر دو میں سے ایک شخص (جہاد کے لیے) نکلے، اور اجر دونوں کے درمیان (برابر) ہوگا"۔
ولا تعارض بين هذا الحديث وحديث زيد بن خالد الذي أشار إليه المصنف بإثره، لأنَّ لفظة النصف أُطلقت فيه بالنسبة إلى مجموع الثواب الحاصل للغازي والخالف له بخير، فإنَّ الثواب إذا انقسم بينهما كان لكل منها مثل ما للآخر. أفاده الحافظ ابن حجر في "فتح الباري" 9/ 95.
مجموعی اصول: اس حدیث اور حضرت زید بن خالدؓ کی حدیث میں کوئی تعارض نہیں، کیونکہ "آدھے اجر" سے مراد یہ ہے کہ غازی اور اس کے پیچھے گھر والوں کی خبرگیری کرنے والے دونوں کو برابر اجر ملے گا۔ جیسا کہ حافظ ابن حجر نے "فتح الباری" میں وضاحت کی ہے۔
(2) لفظة "وحده" سقطت من (ز).
فنی نکتہ: لفظ "وحدہ" نسخہ (ز) سے ساقط ہے۔
(1) هذا الحديث أخرجه مسلم برقم (1895)، وهو كذلك عند البخاري (2843)، فدعوى المصنِّف بانفراد مسلم بإخراجه غير صحيحة.
اہم نکتہ: مصنف کا یہ دعویٰ کہ اسے صرف امام مسلم نے روایت کیا ہے درست نہیں، کیونکہ یہ امام بخاری (2843) کے ہاں بھی موجود ہے۔
وهو أيضًا عند مسلم (1895) من طريق بُكير بن الأشج عن بُسر بن سعيد.
حوالہ / مصدر: امام مسلم نے اسے بکیر بن الاشج کے طریق سے بھی روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2460 سے ماخوذ ہے۔