حدیث نمبر: 2459
حدثنا علي بن عيسى الحِيري، حدثنا أحمد بن نَجْدة، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، عن أبيه، عن خارجة بن زيد، عن زيد بن ثابت، قال: كنتُ إلى جنبِ رسول الله ﷺ فَغَشِيَتْه السكينةُ، فَوَقَعَت فَخِذُ رسول الله ﷺ على فَخِذِي، فما وجدتُ ثِقَلَ شيءٍ أَثْقَلَ مِن فَخَذِ رسول الله ﷺ على فَخَذِي، ثم سُرِّيَ عنه، فقال: "اكتُبْ" فكتبتُ في كَتِفٍ: (لَا يَستوي القاعدونَ مِن المؤمنين والمُجاهِدُون في سبيلِ اللهِ) إلى آخر الآية، فقام ابنُ أم مَكتومٍ، وكان رجلًا أعمى، لما سَمِعَ فضيلةَ المجاهدين، فقال: يا رسولَ الله، فكيف بمن لا يستطيعُ الجهادَ من المؤمنين؟ فلما قضى كلامه غَشِيَتْ رسولَ الله ﷺ السكينةُ، فوقعتْ فَخِذُه على فَخِذِي، فوجدتُ من ثِقَلِها في المرّةِ الثانية كما وجَدتُ في المرّةِ الأولى، ثم سُرِّيَ عن رسولِ الله ﷺ فقال: "اقرأ يا زيدُ" فقرأتُ: ﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ﴾، فقال رسول الله ﷺ: ﴿غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ﴾ الآية كلَّها [النساء: 95]، قال زيد: أنزلها اللهُ وحدَها، فألحقتُها، والذي نفسِي بيدِه، لكأني أنظُر إلى مُلحَقِها عند صَدْعٍ في كَتِفٍ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2428 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا کہ آپ ﷺ پر سکینہ (وحی کی کیفیت) طاری ہو گئی، تو رسول اللہ ﷺ کی ران میری ران پر آ پڑی، میں نے رسول اللہ ﷺ کی ران کے بوجھ سے زیادہ بھاری کوئی چیز محسوس نہیں کی، پھر جب وہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”لکھو“، چنانچہ میں نے شانے کی ہڈی پر لکھا: ﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ ”ایمان والوں میں سے (گھروں میں) بیٹھ رہنے والے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے برابر نہیں ہیں“ [سورة النساء: 95] آیت کے آخر تک۔ جب سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے، جو کہ نابینا تھے، مجاہدین کی فضیلت سنی تو وہ کھڑے ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! ان مومنین کا کیا حکم ہے جو جہاد کی استطاعت نہیں رکھتے؟ جب انہوں نے اپنی بات مکمل کی تو رسول اللہ ﷺ پر دوبارہ سکینہ طاری ہو گئی اور آپ ﷺ کی ران میری ران پر آ پڑی، میں نے دوسری مرتبہ بھی وہی بوجھ محسوس کیا جو پہلی بار محسوس کیا تھا، پھر جب آپ ﷺ سے وہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے زید! پڑھو“، میں نے پڑھا: ﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ﴾، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ﴿غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ﴾ ”سوائے معذور لوگوں کے“ (پھر پوری آیت مکمل فرمائی)۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ الفاظ الگ سے نازل فرمائے تو میں نے انہیں پہلے والے الفاظ کے ساتھ ملحق کر دیا، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! گویا میں ابھی بھی شانے کی ہڈی کے شگاف کے پاس ان ملحقہ الفاظ کو دیکھ رہا ہوں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2459
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، وقد روي من وجهين آخرين كما سيأتي، وأخرجه أبو داود (2507) عن سعيد بن منصور، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 2459] [ترقيم الشركة 2441] [ترقيم العلميه 2428]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، وقد روي من وجهين آخرين كما سيأتي.

وأخرجه أبو داود (2507) عن سعيد بن منصور، بهذا الإسناد.

درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اور عبدالرحمن بن ابی الزناد کی وجہ سے سند حسن ہے۔ اسے ابوداؤد (2507) نے بھی روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (21664) عن سليمان بن داود، عن عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، به.
حوالہ / مصدر: امام احمد (21664) نے اسے سلیمان بن داود عن عبدالرحمن کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد (21601)، وابن حبان (4713) من طريق قبيصة بن ذؤيب، وأحمد (21602)، والبخاري (2832) و (4592)، والترمذي (3033)، والنسائي (4292) و (4293) من طريق مروان بن الحكم، كلاهما عن زيد بن ثابت.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابن حبان، بخاری (2832، 4592)، ترمذی اور نسائی نے قبیصہ بن ذویب اور مروان بن الحکم کے طرق سے حضرت زید بن ثابتؓ سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2459 سے ماخوذ ہے۔