المستدرك على الصحيحين
كتاب : الجهاد— جہاد کا بیان
ذِكْرُ لَيْلَةٍ أَفْضَلَ مِنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ باب: ذِكْرُ لَيْلَةٍ أَفْضَلَ مِنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ
حدیث نمبر: 2455
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا ثَوْر بن يزيد، عن عبد الرحمن بن عائذ، عن مجاهد، عن ابن عمر، أنَّ النبي ﷺ قال: "أَلا أنبِّئكُم بليلةٍ أفضلَ من ليلةِ القَدْرِ: حارِسٌ حَرَسَ في أرضِ خوفٍ، لعلّه أن لا يَرجِعَ إلى أهلِه" (2).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وقد أَوقفَه وكيعُ بن الجرّاح عن ثور، وفي يحيى بن سعيد قُدوة (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی رات کے بارے میں نہ بتاؤں جو شبِ قدر سے بھی افضل ہے؟ وہ اس پہرے دار کی رات ہے جو خوف کے مقام پر پہرہ دیتا ہے اور اسے یہ امید نہیں ہوتی کہ وہ اپنے گھر والوں کی طرف واپس لوٹ سکے گا۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف لجهالة مجاهد - وهو ابن رباح - كما قُيِّد في بعض الروايات فليس هو مجاهد بن جبر المكي، ثم إنه وقع فيه اختلاف في رفعِه ووقفِه، فرفعه يحيى القطان، ووقفه وكيع كما في الطريق التالية، وكان يحيى القطان يقفه أحيانًا. وانظر "علل الدارقطني" (2846).
درجۂ حدیث: سند ضعیف ہے کیونکہ مجاہد (ابن رباح) مجہول ہیں؛ یہ مشہور مجاہد بن جبر مکی نہیں ہیں۔
فنی نکتہ: اس روایت کے "مرفوع" (نبی ﷺ کا قول) یا "موقوف" (صحابی کا قول) ہونے میں بھی اختلاف ہے۔ یحییٰ القطان اسے کبھی مرفوع اور کبھی موقوف بیان کرتے تھے، جبکہ وکیع نے اسے موقوف روایت کیا ہے۔
وأخرجه النسائي (8817) عن محمد بن بشار، عن يحيى بن سعيد القطان، بهذا الإسناد. وقيَّد فيه مجاهدًا بابن رباح، وقال محمد بن بشار في آخره: كان يحيى إذا حدَّث به على رؤوس الملأ لا يرفعه، وإذا حدث به في خلوته وخاصته رفعه.
حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی (8817) نے یحییٰ القطان کی سند سے روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ: محمد بن بشار کہتے ہیں کہ یحییٰ القطان جب عام محفل میں یہ حدیث بیان کرتے تو اسے مرفوع نہیں کرتے تھے، لیکن خاص شاگردوں میں اسے مرفوع بیان کرتے تھے۔
(3) لكن لم يكن يرفعه على الاطّراد كما أسلفنا فكأن الأصح روايته موقوفًا، على أنَّ ذلك إن ثبت من جهة الإسناد لا يَضُرّ، إذ إنَّ مثله لا يقال من جهة الرأي، ولكن لم يثبت لما عرفناه من جهالة التابعي، والله أعلم.
درجۂ حدیث: چونکہ اسے مستقل طور پر مرفوع بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اصح بات یہ ہے کہ یہ "موقوف" ہے، اور تابعی کے مجہول ہونے کی وجہ سے اس کی سند ثابت نہیں۔
درجۂ حدیث: سند ضعیف ہے کیونکہ مجاہد (ابن رباح) مجہول ہیں؛ یہ مشہور مجاہد بن جبر مکی نہیں ہیں۔
فنی نکتہ: اس روایت کے "مرفوع" (نبی ﷺ کا قول) یا "موقوف" (صحابی کا قول) ہونے میں بھی اختلاف ہے۔ یحییٰ القطان اسے کبھی مرفوع اور کبھی موقوف بیان کرتے تھے، جبکہ وکیع نے اسے موقوف روایت کیا ہے۔
وأخرجه النسائي (8817) عن محمد بن بشار، عن يحيى بن سعيد القطان، بهذا الإسناد. وقيَّد فيه مجاهدًا بابن رباح، وقال محمد بن بشار في آخره: كان يحيى إذا حدَّث به على رؤوس الملأ لا يرفعه، وإذا حدث به في خلوته وخاصته رفعه.
حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی (8817) نے یحییٰ القطان کی سند سے روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ: محمد بن بشار کہتے ہیں کہ یحییٰ القطان جب عام محفل میں یہ حدیث بیان کرتے تو اسے مرفوع نہیں کرتے تھے، لیکن خاص شاگردوں میں اسے مرفوع بیان کرتے تھے۔
(3) لكن لم يكن يرفعه على الاطّراد كما أسلفنا فكأن الأصح روايته موقوفًا، على أنَّ ذلك إن ثبت من جهة الإسناد لا يَضُرّ، إذ إنَّ مثله لا يقال من جهة الرأي، ولكن لم يثبت لما عرفناه من جهالة التابعي، والله أعلم.
درجۂ حدیث: چونکہ اسے مستقل طور پر مرفوع بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اصح بات یہ ہے کہ یہ "موقوف" ہے، اور تابعی کے مجہول ہونے کی وجہ سے اس کی سند ثابت نہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2455 سے ماخوذ ہے۔