حدثنا الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا أبو مُسلم، حدثنا أبو الوليد، حدثنا إسحاق بن سعيد، حدثنا أبي، حدثتني أم خالد بنت خالد، قالت: أُتي النبيُّ ﷺ بثيابٍ فيها خَمِيصةٌ سوداء صغيرة، فقال: "مَن تَرَون أكسُو هذه؟ " فسكتَ القومُ، فقال رسول الله ﷺ: "ائتُوني بأمِّ خالدٍ" قالت: فأُتِي بي فألبَسَنِيها بيده، وقال: "أَبْلِي وأخْلِفي (1) " يقولها مرتين، وجعل ينظُر إلى عَلَمٍ في الخَمِيصة أصفرَ وأحمرَ، ويقول: "يا أمَّ خالدٍ، هذا سَنَا" (1). والسَّنا بلِسان الحَبَشة: الحَسَن.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2367 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2367 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام خالد بنت خالد رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس کچھ کپڑے لائے گئے جن میں ایک چھوٹی سیاہ خمیصہ (نقش و نگار والی چادر) تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے کہ میں یہ چادر کسے پہناؤں؟“ تو لوگ خاموش رہے، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس ام خالد کو لاؤ۔“ وہ کہتی ہیں کہ مجھے لایا گیا تو آپ ﷺ نے اسے اپنے مبارک ہاتھوں سے مجھے پہنایا اور فرمایا: «أَبْلِي وأخْلِفي» ”اسے پرانا کرو اور پھر اللہ تمہیں اس کا نعم البدل عطا فرمائے (یعنی تمہاری عمر دراز ہو)۔“ آپ ﷺ نے یہ بات دو بار فرمائی، اور آپ ﷺ خمیصہ میں موجود زرد اور سرخ نقش و نگار کو دیکھنے لگے اور فرمانے لگے: ”اے ام خالد! یہ «سَنَا» ہے۔“ اور «سَنَا» حبشی زبان میں خوبصورت کو کہتے ہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا هشام بن علي ومحمد بن أيوب، قالا: حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أنس: أنَّ المهاجرين قالوا للنبي ﷺ: ذهبَ الأنصارُ بالأجرِ كُلِّه، قال: "لا، ما دعَوتُمُ اللهَ لهم وأَثنَيتُم" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2368 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2368 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مہاجرین نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ انصار تو سارا اجر لے گئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، جب تک تم ان کے لیے اللہ سے دعا کرتے رہو گے اور ان کی تعریف کرتے رہو گے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا محمد بن عبد الوهاب العَبْدي. وحدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إسحاق بن الحسن بن ميمون الحَرْبي؛ قالا: حدثنا سُريج بن النعمان الجَوهري، حدثنا أبو عَوَانة، عن الأعمش، عن مجاهد، عن ابن عمر، أنَّ النبي ﷺ قال: "من سألكُم بالله فأَعْطُوه، ومَن استعاذكُم باللهِ فأعيذُوه، ومَن آتى إليكُم معروفًا فكافِئوه، فإن لم تَجِدُوا فادعُوا له حتى تعلَمُوا أنكم كافأْتُموهُ، ومن استجارَكُم باللهِ فأجِيرُوه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، للخلاف الذي بين أصحاب الأعمش فيه (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2369 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، للخلاف الذي بين أصحاب الأعمش فيه (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2369 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو تم سے اللہ کے واسطے سے مانگے اسے عطا کرو، اور جو اللہ کی پناہ مانگے اسے پناہ دو، اور جو تمہارے ساتھ کوئی بھلائی کرے تو اسے اس کا بدلہ دو، اور اگر تم (بدلہ دینے کے لیے) کچھ نہ پاؤ تو اس کے لیے (اتنی) دعا کرو کہ تمہیں یقین ہو جائے کہ تم نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے، اور جو اللہ کے نام پر تم سے پناہ مانگے اسے پناہ دو۔“
اس حدیث کی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ امام اعمش کے شاگردوں کے درمیان اس کی روایت میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
اس حدیث کی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ امام اعمش کے شاگردوں کے درمیان اس کی روایت میں اختلاف پایا جاتا ہے۔