أخبرني أبو الحُسين محمد بن أحمد القَنْطَري ببغداد وأبو أحمد بكر بن محمد الصَّيْرفي بمَرْو، قالا: حدثنا أبو قِلابة وأخبرني أبو عمرو بن نُجَيد، حدثنا أبو مُسلم؛ قالا: حدثنا أبو عاصم، عن ابن عَجْلان، عن المقبُري، عن أبي هريرة: أنَّ رجلًا أهدى إلى رسول الله ﷺ لِقْحة، فأثابَه منها بستِّ بَكَرات، فتسخَّطها الرجلُ، فقال رسول الله ﷺ: "مَن يَعذِرُني مِن فلانٍ، أَهدى إلي لِقْحةً، فكأني أنظُر إليها في وَجْه بعضِ أهلِه، فأثَبْتُه منها بسِتِّ بَكَرَاتٍ فتَسخَّطَها، لقد هممتُ أن لا أقبل هَديّةً إلّا أن تكونَ من قُرشيٍّ أو أنصارِيٍّ أو ثَقَفيٍّ أو دَوْسِيّ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2365 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2365 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کو دودھ دینے والی اونٹنی ہدیہ کی، آپ ﷺ نے اسے اس کے بدلے میں چھ جوان اونٹنیاں عطا فرمائیں، لیکن وہ شخص پھر بھی (ان پر) ناراض رہا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کون ہے جو فلاں شخص کے معاملے میں میرا عذر قبول کرے؟ اس نے مجھے ایک اونٹنی ہدیہ کی، گویا میں اسے اس کے گھر والوں کے چہروں میں (بطور فخر) دیکھ رہا ہوں، پھر میں نے اسے اس کے بدلے میں چھ جوان اونٹنیاں عطا کیں لیکن وہ پھر بھی ناراض رہا، میں نے تو پختہ ارادہ کر لیا تھا کہ اب قریشی، انصاری، ثقفی یا دوسی کے علاوہ کسی کا ہدیہ قبول نہ کروں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا عبد الله بن داود، عن الأعمش، عن يعقوب بن بَحِير، عن ضِرار بن الأزوَر قال: بعثَني أهلي بلَقُوحٍ إلى رسول الله ﷺ أهدَوْها له، فقال لي: "احلُبْها ودَعْ داعيَ اللَّبَنِ" (2). حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في شهر رمضان سنة سبع وتسعين وثلاث مئة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2366 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2366 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میرے گھر والوں نے مجھے رسول اللہ ﷺ کی طرف ایک دودھ دینے والی اونٹنی دے کر بھیجا جو انہوں نے آپ ﷺ کو ہدیہ کی تھی، تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اس کا دودھ نکال لو لیکن تھنوں میں کچھ دودھ (بچے کے لیے) چھوڑ دو۔“