حدیث نمبر: 2400
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا محمد بن عبد الوهاب العَبْدي. وحدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إسحاق بن الحسن بن ميمون الحَرْبي؛ قالا: حدثنا سُريج بن النعمان الجَوهري، حدثنا أبو عَوَانة، عن الأعمش، عن مجاهد، عن ابن عمر، أنَّ النبي ﷺ قال: "من سألكُم بالله فأَعْطُوه، ومَن استعاذكُم باللهِ فأعيذُوه، ومَن آتى إليكُم معروفًا فكافِئوه، فإن لم تَجِدُوا فادعُوا له حتى تعلَمُوا أنكم كافأْتُموهُ، ومن استجارَكُم باللهِ فأجِيرُوه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، للخلاف الذي بين أصحاب الأعمش فيه (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2369 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو تم سے اللہ کے واسطے سے مانگے اسے عطا کرو، اور جو اللہ کی پناہ مانگے اسے پناہ دو، اور جو تمہارے ساتھ کوئی بھلائی کرے تو اسے اس کا بدلہ دو، اور اگر تم (بدلہ دینے کے لیے) کچھ نہ پاؤ تو اس کے لیے (اتنی) دعا کرو کہ تمہیں یقین ہو جائے کہ تم نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے، اور جو اللہ کے نام پر تم سے پناہ مانگے اسے پناہ دو۔“
اس حدیث کی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ امام اعمش کے شاگردوں کے درمیان اس کی روایت میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2400
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو عوانة: هو الوضاح بن عبد الله اليشكُري، والأعمش: هو سليمان بن مهران، ومجاهد: هو ابن جبر المكي.» [ترقيم الرساله 2400] [ترقيم الشركة 2382] [ترقيم العلميه 2369]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أبو عوانة: هو الوضاح بن عبد الله اليشكُري، والأعمش: هو سليمان بن مهران، ومجاهد: هو ابن جبر المكي.
درجۂ حدیث: سند "صحیح" ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ائمہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 10/ (5743) عن سريج بن النعمان، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام احمد نے اسے اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وقد تقدَّم من طريق مسلم بن إبراهيم عن أبي عوانة برقم (1519/ 1)، ومن ثلاثة طرق أخرى عن الأعمش بالأرقام (1519) و (1519/ 2) و (1519/ 3).
نوٹ / توضیح: یہ روایت سابقہ رقم 1519 کے مختلف اجزاء میں تفصیل سے گزر چکی ہے۔
(2) قدّم المصنف بيان ذلك بالأرقام (1519 - 1519/ 3).
نوٹ / توضیح: مصنف نے اس کی وضاحت پہلے ہی کر دی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2400 سے ماخوذ ہے۔