کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سواری والے جانور کی اگلی جگہ کا زیادہ حق اس کے مالک کو ہے۔
أخبرنا أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرفي بمَرْو، حدثنا إبراهيم بن هِلال، حدثنا علي بن الحَسن بن شقيق، حدثنا الحُسين بن واقِد، حدثني عبد الله بن بُريدة، عن أبيه: أنَّ رجلًا أتى النبيَّ ﷺ بحِمار وهو يمشي، فقال: اركَبْ يا رسول الله، فقال: "إنَّ صاحبَ الدابَّةِ أحقُّ بصَدْرِ دابَّتِه إلّا أن تجعلَه لي" قال: قد فَعَلْتُ (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2370 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس ایک گدھا لے کر آیا جبکہ آپ ﷺ پیدل چل رہے تھے، اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! آپ سوار ہو جائیے،“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جانور کا مالک اس کے اگلے حصے (صدر) پر سواری کا زیادہ حقدار ہے، الا یہ کہ تم وہ جگہ میرے لیے چھوڑ دو،“ اس نے عرض کیا: ”میں نے ایسا ہی کیا (یعنی جگہ آپ کے لیے چھوڑ دی)۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2401
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي من أجل الحسين بن واقد، فهو صدوق لا بأس به، وإبراهيم بن هلال حسن الحديث وهو متابَع.» [ترقيم الرساله 2401] [ترقيم الشركة 2383] [ترقيم العلميه 2370]
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشاذَ العَدْل، قالا: حدثنا عُبيد بن عبد الواحد، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا يحيى بن أيوب، أخبرني عمرو بن الحارث، أن بكر بن سَوَادة أخبره عن أبي سالم الجَيْشاني، عن زيد بن خالد الجُهَني، أَنَّ رسول الله ﷺ قال: "مَن آوى ضالَّةً فهو ضالٌّ ما لم يُعرِّفْها" (2). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2371 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی گمشدہ جانور کو ٹھکانہ دیا (اور اس کا اعلان نہ کیا) تو وہ خود بھی گمراہ ہے جب تک کہ وہ اس کی (باقاعدہ) تشہیر نہ کر دے۔“
اس کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2402
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل يحيى بن أيوب» [ترقيم الرساله 2402] [ترقيم الشركة 2384] [ترقيم العلميه 2371]