کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: گروی رکھی ہوئی چیز بند نہیں ہوتی، اس کا نفع مالک کا ہے اور اس کا نقصان بھی اسی پر ہے۔
حدثنا أبو الوليد الفقيه، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب ويحيى بن محمد بن صاعِد، قالا: حدثنا عبد الله بن عمران العابِدي، حدثنا سفيان بن عُيينة، عن زياد بن سعد، عن الزُّهْري، عن سعيد بن المسيّب، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ: "لا يَغْلَقُ الرَّهْنُ، له غُنْمُه وعليه غُرْمُه" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه لخلافٍ فيه على أصحاب الزُّهْري، وقد تابع مالكٌ وابنُ أبي ذئب وسليمانُ بن أبي داود الحَرَّاني ومحمدُ بن الوليد الزُّبيدي ومعمرُ بن راشد على هذه الروايةِ. أما حديثُ مالكٍ:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه لخلافٍ فيه على أصحاب الزُّهْري، وقد تابع مالكٌ وابنُ أبي ذئب وسليمانُ بن أبي داود الحَرَّاني ومحمدُ بن الوليد الزُّبيدي ومعمرُ بن راشد على هذه الروايةِ. أما حديثُ مالكٍ:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رہن (گروی رکھی ہوئی چیز) اپنے مالک سے منقطع نہیں ہوتی، اس کا نفع بھی اسی کا ہے اور اس کا نقصان (یا خرچہ) بھی اسی کے ذمے ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے امام زہری کے شاگردوں کے اختلاف کی وجہ سے اسے روایت نہیں کیا، تاہم امام مالک اور دیگر ائمہ نے اس کی متابعت کی ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے امام زہری کے شاگردوں کے اختلاف کی وجہ سے اسے روایت نہیں کیا، تاہم امام مالک اور دیگر ائمہ نے اس کی متابعت کی ہے۔
فحدَّثَناه أبو علي وأبو محمد المَرَاغِي، قالا: حدثنا علي بن عبد الحميد الغَضائري بحلب، حدثنا مُجاهِد بن موسى، حدثنا [مَعْن بن عيسى] (1) عن مالك بن أنس، عن الزُّهْري، فذكره بإسناده نحوه (2) وأما حديث ابن أبي ذِئب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2315 - على شرط البخاري ومسلم ولم يخرجاه لاختلافهم على الزهري_x000D_ وَأَمَّا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2315 - على شرط البخاري ومسلم ولم يخرجاه لاختلافهم على الزهري_x000D_ وَأَمَّا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی سند کے ساتھ مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح ارشاد فرمایا۔
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عوف بن سفيان الطائي، حدثنا عثمان بن سعيد بن كثير بن دينار الحمصي، حدثنا إسماعيل بن عيّاش، عن ابن أبي ذِئب، عن الزُّهْري، عن سعيد بن المسيّب، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ: "لا يَغْلَقُ الرهنُ، لِصاحِبِه غُنْمُه، وعليه غُرْمُه" (1). وقد قيل: عن ابن أبي ذِئب، عن الزُّهْري، عن سعيد وأبي سلمة، عن أبي هريرة:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رہن اپنے اصل مالک سے جدا نہیں ہوتا، اس کا فائدہ بھی اس کے مالک کا ہے اور اس کا ہرجانہ بھی اسی کے ذمہ ہے۔“
أخبرَناه أبو علي الحافظ، حدثنا محمد بن إبراهيم الرازي، حدثنا عبد الله بن نصر الأصم، حدثنا شَبَابة، حدثنا ابن أبي ذِئب، عن الزُّهْري، عن سعيد بن المسيّب وأبي سلمة، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ: "لا يَغْلَقُ الرهنُ، الرهنُ لمن رَهَنه، له غُنْمُه، وعليه غُرْمُه" (1). وأما حديث سليمان بن أبي داود:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رہن بند نہیں ہوتا (یعنی مالک کی ملکیت سے نہیں نکلتا)، رہن اسی کا ہے جس نے اسے گروی رکھا، اس کا نفع بھی اس کے لیے ہے اور اس کا نقصان بھی اسی پر ہے۔“
فحدَّثَناه الحُسين بن علي، حدثنا أبو الطَّيِّب محمد بن جعفر الدِّيباجي ببغداد، حدثنا محمد بن خالد بن يزيد الراسبي، حدثنا أبو مَيسرة أحمد بن عبد الله بن ميسرة الحَرّاني، حدثنا سليمان بن أبي داود، عن الزُّهْري، عن سعيد بن المسيّب، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال: "لا يَغْلَقُ الرَّهنُ حتى يكون لك غُنْمه، وعليك غُرْمُه" (1). وأما حديث محمد بن الوليد الزُّبيدي:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”رہن اپنے مالک سے منقطع نہیں ہوتا یہاں تک کہ اس کا نفع تمہیں حاصل ہو اور اس کا تاوان تمہارے ذمے ہو۔“
فحدَّثَناه أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى، حدثنا عبد الله بن محمد الإسفراييني، حدثنا عِمران بن بَكّار، حدثنا عبد الله بن عبد الجبّار، حدثنا إسماعيل ابن عيّاش، حدثنا الزُّبيدي، عن الزُّهْري، عن سعيد بن المسيّب، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ: "لا يَغْلَقُ الرهنُ، له غُنمُه، وعليه غُرمُه" (1). وأما حديث معمر بن راشد:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رہن (رکھی ہوئی چیز) اپنے مالک سے منقطع نہیں ہوتی، اس کا نفع بھی اسی کا ہے اور اس کا ہرجانہ بھی اسی کے ذمہ ہے۔“ اور جہاں تک معمر بن راشد کی حدیث کا تعلق ہے:
فحدَّثَناه أبو بكر محمد بن عبد الله الحَفِيد، حدثنا موسى بن زكريا التُّستَري، حدثنا محمد بن يزيد الرَّوّاس، حدثنا كُدَير (2) أبو يحيى، حدثنا معمر، عن الزُّهْري، عن سعيد بن المسيب، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ: "لا يَغلَقُ الرهنُ، لك غُنمُه وعليك غُرمُه" (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رہن (رکھی ہوئی چیز) اپنے مالک کے لیے بند نہیں ہوتی، تمہارے لیے اس کا فائدہ ہے اور تمہی پر اس کا تاوان ہے۔“
أخبرني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا الحَسَن بن علي بن شَبيب المَعْمَري، حدثنا محمد بن سُليمان المِصِّيصي، حدثنا أبو هَمَّام محمد بن الزِّبْرِقان، حدثنا أبو حيّان التَّيمي، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ: "يقولُ الله: أنا ثالثُ الشَّرِيكَينِ ما لم يخُنْ أحدُهما صاحِبَه، فإذا خانَ خرجتُ من بينِهما" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2322 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2322 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں دو شریکوں کا تیسرا (مددگار) ہوں جب تک ان میں سے کوئی ایک اپنے ساتھی سے خیانت نہ کرے، پس جب وہ خیانت کر بیٹھتا ہے تو میں ان کے درمیان سے نکل جاتا ہوں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو أحمد إسحاق بن محمد بن خالد الهاشمي بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا حنظلة بن أبي سفيان، قال: سمعت سالم بن عبد الله يحدِّث عن ابن عمر، عن النبي ﷺ قال: "مَن وَهَبَ هِبةً، فهو أحقُّ بها، ما لم يُثَبْ مِنها" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، إلّا أن يكون الحَمْلُ فيه على شَيخِنا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2323 - على شرطهما إلا أن نكل الحمل فيه على شيخنا
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، إلّا أن يكون الحَمْلُ فيه على شَيخِنا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2323 - على شرطهما إلا أن نكل الحمل فيه على شيخنا
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کوئی چیز ہبہ کی تو وہ اسے واپس لینے کا زیادہ حق رکھتا ہے جب تک کہ اسے اس کا کوئی بدلہ نہ دیا گیا ہو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، سوائے اس کے کہ اس کا دارومدار ہمارے شیخ پر ہو۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، سوائے اس کے کہ اس کا دارومدار ہمارے شیخ پر ہو۔