المستدرك على الصحيحين
كتاب : البيوع— خریدوفروخت کا بیان
لَا يُغْلَقُ الرَّهْنُ لَهُ غُنْمُهُ وَعَلَيْهِ غُرْمُهُ باب: گروی رکھی ہوئی چیز بند نہیں ہوتی، اس کا نفع مالک کا ہے اور اس کا نقصان بھی اسی پر ہے۔
حدیث نمبر: 2353
أخبرني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا الحَسَن بن علي بن شَبيب المَعْمَري، حدثنا محمد بن سُليمان المِصِّيصي، حدثنا أبو هَمَّام محمد بن الزِّبْرِقان، حدثنا أبو حيّان التَّيمي، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ: "يقولُ الله: أنا ثالثُ الشَّرِيكَينِ ما لم يخُنْ أحدُهما صاحِبَه، فإذا خانَ خرجتُ من بينِهما" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2322 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں دو شریکوں کا تیسرا (مددگار) ہوں جب تک ان میں سے کوئی ایک اپنے ساتھی سے خیانت نہ کرے، پس جب وہ خیانت کر بیٹھتا ہے تو میں ان کے درمیان سے نکل جاتا ہوں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لجهالة والد أبي حيان التيمي - واسم أبي حيان: يحيى بن سعيد بن حيان - وبذلك أعله ابن القطان في "بيان الوهم" 4/ 490، وأعله الدارقطني في "العلل" (2084) بعلة أخرى، وهي أنَّ جرير بن عبد الحميد وغيره قد خالفوا فيه محمد بن الزبرقان، فأرسلوه، قال: وهو الصواب.
درجۂ حدیث: ابوحیا تیمی کے والد کے مجہول ہونے کی وجہ سے سند ضعیف ہے۔ ابن القطان نے "بیان الوہم" (4/ 490) اور دارقطنی نے "العلل" (2084) میں اسے جریر بن عبدالحمید کی مخالفت اور مرسل ہونے کی وجہ سے معلول قرار دیا ہے، اور مرسل ہی صواب ہے۔
وأخرجه أبو داود (3383) عن محمد بن سليمان المِصِّيصي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام ابوداؤد (3383) نے محمد بن سلیمان مصیصی کی سند سے اسے روایت کیا ہے۔
ورواية جرير بن عبد الحميد التي أشار إليها الدارقطني أخرجها في "سننه" (1934)، لكن الراوي عنه فيها أبو ميسرة أحمد بن عبد الله بن ميسرة النهاوندي، وهو متروك الحديث.
نوٹ / توضیح: جریر بن عبدالحمید کی روایت جو دارقطنی (1934) میں ہے، اس کا راوی احمد بن عبداللہ نہاوندی "متروک" ہے۔
درجۂ حدیث: ابوحیا تیمی کے والد کے مجہول ہونے کی وجہ سے سند ضعیف ہے۔ ابن القطان نے "بیان الوہم" (4/ 490) اور دارقطنی نے "العلل" (2084) میں اسے جریر بن عبدالحمید کی مخالفت اور مرسل ہونے کی وجہ سے معلول قرار دیا ہے، اور مرسل ہی صواب ہے۔
وأخرجه أبو داود (3383) عن محمد بن سليمان المِصِّيصي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام ابوداؤد (3383) نے محمد بن سلیمان مصیصی کی سند سے اسے روایت کیا ہے۔
ورواية جرير بن عبد الحميد التي أشار إليها الدارقطني أخرجها في "سننه" (1934)، لكن الراوي عنه فيها أبو ميسرة أحمد بن عبد الله بن ميسرة النهاوندي، وهو متروك الحديث.
نوٹ / توضیح: جریر بن عبدالحمید کی روایت جو دارقطنی (1934) میں ہے، اس کا راوی احمد بن عبداللہ نہاوندی "متروک" ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2353 سے ماخوذ ہے۔