المستدرك على الصحيحين
كتاب : البيوع— خریدوفروخت کا بیان
لَا يُغْلَقُ الرَّهْنُ لَهُ غُنْمُهُ وَعَلَيْهِ غُرْمُهُ باب: گروی رکھی ہوئی چیز بند نہیں ہوتی، اس کا نفع مالک کا ہے اور اس کا نقصان بھی اسی پر ہے۔
حدیث نمبر: 2350
فحدَّثَناه الحُسين بن علي، حدثنا أبو الطَّيِّب محمد بن جعفر الدِّيباجي ببغداد، حدثنا محمد بن خالد بن يزيد الراسبي، حدثنا أبو مَيسرة أحمد بن عبد الله بن ميسرة الحَرّاني، حدثنا سليمان بن أبي داود، عن الزُّهْري، عن سعيد بن المسيّب، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال: "لا يَغْلَقُ الرَّهنُ حتى يكون لك غُنْمه، وعليك غُرْمُه" (1). وأما حديث محمد بن الوليد الزُّبيدي:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”رہن اپنے مالک سے منقطع نہیں ہوتا یہاں تک کہ اس کا نفع تمہیں حاصل ہو اور اس کا تاوان تمہارے ذمے ہو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف جدًّا، أبو ميسرة: أحمد بن عبد الله بن ميسرة ضعيف جدًّا واتهمه ابن حبان وابن عدي بسرقة الحديث، وسليمان بن أبي داود - ويقال: ابن داود هو الحَرّاني، كما قيده الحاكم لدى إجماله ذكر متابعات هذا الحديث بإثر الرواية (2346)، وجاء عند من خرَّج الحديث غير الحاكم تقييده بالرَّقّي، والخطب فيه هين، فحران قريبة من الرقة، وهما من أهم مدن الجزيرة، ويجوز أن يكون هو سليمان بن داود الجزري، كما قال الحافظ، لأنها طبقته، وإذا صحَّ ذلك فهو ضعيف الحديث أيضًا، والله تعالى أعلم. وقد روى هذا الحديث عن الزُّهْري غيرُه، لكن اختلف عليه في وصله وإرساله، كما تقدَّم.
درجۂ حدیث: سند انتہائی ضعیف ہے۔ احمد بن عبداللہ بن ميسرہ کو ابن حبان اور ابن عدی نے حدیث چوری کرنے کا متہم قرار دیا ہے۔ سلیمان بن ابی داؤد (حرانی یا جزری) بھی ضعیف الحدیث ہے۔
وأخرجه ابن عدي في "الكامل" 1/ 176، والدارقطني في "سننه" (2922) من طريق محمد بن خالد بن يزيد الراسبي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: ابن عدی نے "الکامل" (1/ 176) اور دارقطنی نے "سنن" (2922) میں محمد بن خالد راسبی کے طریق سے اسے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: سند انتہائی ضعیف ہے۔ احمد بن عبداللہ بن ميسرہ کو ابن حبان اور ابن عدی نے حدیث چوری کرنے کا متہم قرار دیا ہے۔ سلیمان بن ابی داؤد (حرانی یا جزری) بھی ضعیف الحدیث ہے۔
وأخرجه ابن عدي في "الكامل" 1/ 176، والدارقطني في "سننه" (2922) من طريق محمد بن خالد بن يزيد الراسبي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: ابن عدی نے "الکامل" (1/ 176) اور دارقطنی نے "سنن" (2922) میں محمد بن خالد راسبی کے طریق سے اسے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2350 سے ماخوذ ہے۔