المستدرك على الصحيحين
كتاب : البيوع— خریدوفروخت کا بیان
لَا يُغْلَقُ الرَّهْنُ لَهُ غُنْمُهُ وَعَلَيْهِ غُرْمُهُ باب: گروی رکھی ہوئی چیز بند نہیں ہوتی، اس کا نفع مالک کا ہے اور اس کا نقصان بھی اسی پر ہے۔
حدیث نمبر: 2351
فحدَّثَناه أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى، حدثنا عبد الله بن محمد الإسفراييني، حدثنا عِمران بن بَكّار، حدثنا عبد الله بن عبد الجبّار، حدثنا إسماعيل ابن عيّاش، حدثنا الزُّبيدي، عن الزُّهْري، عن سعيد بن المسيّب، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ: "لا يَغْلَقُ الرهنُ، له غُنمُه، وعليه غُرمُه" (1). وأما حديث معمر بن راشد:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رہن (رکھی ہوئی چیز) اپنے مالک سے منقطع نہیں ہوتی، اس کا نفع بھی اسی کا ہے اور اس کا ہرجانہ بھی اسی کے ذمہ ہے۔“ اور جہاں تک معمر بن راشد کی حدیث کا تعلق ہے:
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) رجاله لا بأس بهم، وإسماعيل بن عياش وإن كان قويًا في روايته عن أهل بلده، والزُّبيدي من أهل بلده، قد اختُلف عليه في رواية هذا الحديث، فأكثر من رواه عنه ذكروا فيه ابن أبي ذئب، بدل محمد بن الوليد الزُّبيدي، كما تقدم برقم (2348)، وكذلك قال عبد الله بن عبد الجبار - وهو الخبائري - من طريقين عنه، كما قدمنا هناك، فالظاهر أنَّ الخبائري أخطأ في روايته هنا بذكر الزُّبيدي. وهذا معنى ما ذكره الدارقطني في "الغرائب" كما في "أطرافه" لابن طاهر المقدسي (5033)، وابن عبد البر في "التمهيد" 6/ 430، وإذا ثبت ذلك رجع حديث إسماعيل بن عياش إلى روايته عن ابن أبي ذئب، وهي منقطعة كما تقدَّم، لأنه إنما سمعه من عباد بن كثير الرملي عن ابن أبي ذئب، وعباد ضعيف الحديث، والله تعالى أعلم.
فنی نکتہ / علّت: اسماعیل بن عیاش کی اہل بلد سے روایت قوی ہوتی ہے مگر یہاں انہوں نے زبیدی کا ذکر کر کے غلطی کی ہے، محفوظ روایت میں ابن ابی ذئب کا ذکر ہے (جیسا کہ رقم 2348 پر گزرا)۔
نوٹ / توضیح: ابن عبد البر کے مطابق یہ روایت پلٹ کر اسماعیل بن عیاش کی ابن ابی ذئب سے روایت بنتی ہے جو کہ منقطع اور ضعیف ہے۔
وأخرجه الدارقطني (2923)، وتمام الرازي في "فوائده" (71) من طريقين عن عمران بن الكَلاعي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: دارقطنی (2923) اور تمام رازی (71) نے عمران بن کلاعی کے طریق سے اسے روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اسماعیل بن عیاش کی اہل بلد سے روایت قوی ہوتی ہے مگر یہاں انہوں نے زبیدی کا ذکر کر کے غلطی کی ہے، محفوظ روایت میں ابن ابی ذئب کا ذکر ہے (جیسا کہ رقم 2348 پر گزرا)۔
نوٹ / توضیح: ابن عبد البر کے مطابق یہ روایت پلٹ کر اسماعیل بن عیاش کی ابن ابی ذئب سے روایت بنتی ہے جو کہ منقطع اور ضعیف ہے۔
وأخرجه الدارقطني (2923)، وتمام الرازي في "فوائده" (71) من طريقين عن عمران بن الكَلاعي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: دارقطنی (2923) اور تمام رازی (71) نے عمران بن کلاعی کے طریق سے اسے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2351 سے ماخوذ ہے۔