حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا إسماعيل بن إبراهيم، عن علي بن الحَكَم، عن نافع، عن ابن عمر، قال: نهى رسولُ الله ﷺ عن عَسْبِ (3) الفَحْلِ (4).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط البخاري، ولم يُخرجاه، وعلي بن الحكم البُنَاني ثقة مأمون من أعزِّ البصريين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2281 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط البخاري، ولم يُخرجاه، وعلي بن الحكم البُنَاني ثقة مأمون من أعزِّ البصريين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2281 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نر جانور کی جفتی کی اجرت («عسب الفحل») لینے سے منع فرمایا ہے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور علی بن حکم بنانی بصری ثقہ اور معتبر راویوں میں سے ہیں۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور علی بن حکم بنانی بصری ثقہ اور معتبر راویوں میں سے ہیں۔
حدثنا أبو بكر أحمد بن سَلْمان الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكْرم، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا حَيّان بن عُبيد الله العَدَوي، قال: سألت أبا مِجلَزٍ عن الصَّرْف، فقال: كان ابنُ عباس لا يرى به بأسًا زمانًا من عمره ما كان منه عَينًا - يعني يدًا بيد - وكان يقول: إنما الربا في النَّسيئة، فلَقِيَه - أبو سعيد الخُدْري، فقال له: يا ابن عباس، ألا تتَّقي اللهَ، إلى متى تُوكِل الناسَ الربا؟! أمَا بَلَغَك أنَّ رسول الله ﷺ قال ذات يوم وهو عند زوجته أم سَلَمة: "إني لأشتَهي تمرَ عَجْوةٍ"، فبعثَتْ صاعَين من تمرٍ إلى رجلٍ من الأنصار، فجاءت بدلَ صاعَينِ صاعًا من تمرِ عَجْوةٍ، فقامت فقدَّمتْه إلى رسول الله ﷺ، فلما رآهُ أعجبَه، فتناولَ تمرةً ثم أمسَكَ، فقال: "من أين لكم هذا؟ " فقالت أم سَلَمة: بعثتُ صاعَين من تمرٍ إلى رجل من الأنصار، فأتانا بدلَ صاعَين هذا الصاعُ الواحدُ، وها هو، كُلْ، فألقى التمر من بين يديه، قال: "رُدُّوه، لا حاجةَ لي فيه: التمرُ بالتمرِ، والحنطةُ بالحنطةِ، والشعيرُ بالشعيرِ، والذهبُ بالذهبِ، والفضةُ بالفضةِ، يدًا بيد، عينًا بعين، مِثلًا بمِثل، فمن زاد فهو رِبًا". ثم قال: "كذلك ما يُكال أو يُوزن أيضًا". فقال ابن عباس: جزاك الله يا أبا سعيدٍ الجنةَ، فإنك ذكَّرتني أمرًا كنت نُسِّيتُه، أستغفرُ اللهَ وأتوبُ إليه. فكان ينهى عنه بعد ذلك أشدَّ النَّهْي (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2282 - حبان بن عبيد الله العدوي فيه ضعف وليس بالحجة
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2282 - حبان بن عبيد الله العدوي فيه ضعف وليس بالحجة
حافظ طلحہ بابر
حیان بن عبید اللہ عدوی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابومجلز سے بیعِ صرف (زر کا زر سے تبادلہ) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنی زندگی کے ایک طویل عرصے تک اس میں (نقد تبادلے کی صورت میں) کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ سود تو صرف ادھار میں ہے، پھر ان کی ملاقات سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ہوئی جنہوں نے فرمایا: اے ابن عباس! کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے؟ کب تک لوگوں کو سود کھلانے کا ذریعہ بنو گے؟ کیا تمہیں یہ بات نہیں پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ اپنی زوجہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں قیام کے دوران فرمایا تھا: ”میرا دل عجوہ کھجور کھانے کو چاہ رہا ہے“، تو انہوں نے دو صاع کھجوریں ایک انصاری شخص کے پاس بھیجیں (تاکہ تبادلہ کر سکیں) اور اس کے بدلے ایک صاع عجوہ کھجور لے آئیں، انہوں نے اسے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا تو آپ ﷺ کو وہ کھجوریں پسند آئیں، آپ ﷺ نے ایک کھجور کھانے کے لیے اٹھائی مگر پھر رک گئے اور پوچھا: ”تمہارے پاس یہ کہاں سے آئی؟“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے سارا قصہ سنا دیا تو آپ ﷺ نے وہ کھجوریں اپنے سامنے سے ہٹا دیں اور فرمایا: ”اسے واپس کر دو، مجھے اس کی حاجت نہیں؛ کھجور کے بدلے کھجور، گندم کے بدلے گندم، جو کے بدلے جو، سونے کے بدلے سونا اور چاندی کے بدلے چاندی کا تبادلہ ہاتھوں ہاتھ، نقد اور برابر سرابر ہونا چاہیے، جس نے زیادہ کیا تو وہ سود ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسی طرح ہر وہ چیز ہے جسے ناپا یا تولا جاتا ہو۔“ یہ سن کر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اے ابوسعید! اللہ آپ کو جنت کی جزا دے، آپ نے مجھے وہ بات یاد دلا دی جسے میں بھول گیا تھا، میں اللہ سے مغفرت چاہتا ہوں اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں، چنانچہ اس کے بعد وہ اس سے نہایت سختی سے منع فرمانے لگے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني مخْرَمة بن بُكير، عن أبيه، عن عمران بن أبي أنس، قال: سمعتُ أبا عياشٍ يقول: سألتُ سعدَ بن أبي وقّاص عن اشتراء السُّلْت بالتمر، فقال سعد: أبينهما فَضْلٌ؟ قالوا: نعم، قال: لا يصلحُ، وقال سعد: سُئل رسولُ الله ﷺ عن اشتراء الرُّطب بالتمر، فقال رسول الله ﷺ: "أبينَهما فَضْلٌ؟ " قالوا: نَعَم، الرُّطب ينقُصُ، فقال رسول الله ﷺ: "فلا يَصلُح" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سلت (جو کی ایک قسم) کے بدلے کھجور کی خریداری کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے دریافت کیا کہ کیا ان کے درمیان وزن یا مقدار میں فرق ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو انہوں نے فرمایا: یہ درست نہیں ہے، اور بتایا کہ رسول اللہ ﷺ سے تازہ کھجور کے بدلے خشک کھجور خریدنے کے متعلق پوچھا گیا تھا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا ان کے درمیان وزن میں کمی کا فرق ہوتا ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، تازہ کھجور خشک ہونے پر کم ہو جاتی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر یہ سودا جائز نہیں ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا إسرائيل، عن سِماك بن حَرْب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عمر: أنَّ النبي ﷺ سُئل عن … (1). صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے (کسی معاملے کے متعلق) پوچھا گیا...
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا حمزة بن العباس العَقَبي، حدثنا العباس بن محمد الدُّوْري، حدثنا يعقوب بن إسحاق الحَضْرمي، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن سِماك بن حَرْب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عمر، قال: كنت أبيعُ الإبل بالبقيع، فأبيعُ بالدنانير وآخذُ الدراهمَ، وأبيع بالدراهم وآخذ الدنانيرَ، فوقع في نفسي مِن ذلك، فأتيتُ رسولَ الله ﷺ وهو في بيت حفصة - أو قال: حين خرج من بيت حفصة - فقلتُ: يا رسول الله، رُوَيدَك أسألْك، إني أبيعُ الإبلَ بالبَقيع، فأبيعُ بالدنانير وآخذ الدراهمَ، وأبيعُ بالدراهم وآخذ الدنانير، فقال: "لا بأسَ أن تأخذَهُما بسعر يومِهما ما لم تتفرّقا وبينكما شيءٌ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2285 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2285 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں بقیع میں اونٹ بیچا کرتا تھا، میں سودا دیناروں میں کرتا مگر وصولی درہموں میں کر لیتا، اور کبھی درہموں میں بیچ کر دینار وصول کر لیتا، میرے دل میں اس بارے میں کھٹک پیدا ہوئی تو میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ ﷺ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے (یا وہاں سے نکل رہے تھے)، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ذرا ٹھہریے، میں آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں، میں بقیع میں اونٹ بیچتا ہوں، دینار کے عوض بیچ کر درہم لے لیتا ہوں اور درہم کے عوض بیچ کر دینار وصول کر لیتا ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں کہ تم اس وقت کے بازار کے ریٹ کے مطابق وصولی کر لو جب تک کہ تم ایک دوسرے سے جدا ہونے سے پہلے حساب مکمل کر لو اور تمہارے درمیان کوئی ابہام باقی نہ رہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔