حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشاذَ العَدْل، قالا: حدثنا بِشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان [حدثنا عمرو بن دينار] (1) قال: سمعت أبا المِنْهال يقول: سمعتُ إياسَ بن عبدٍ المُزَني، ورأى رجلًا يبيع الماء، فقال: لا تَبيعوا الماءَ، فإني سمعتُ رسول الله ﷺ يَنهى عن بَيع الماءِ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2286 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2286 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ایاس بن عبد مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو پانی بیچتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: پانی مت بیچو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو پانی کی بیع سے منع فرماتے سنا ہے۔
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني ابن جُرَيج، عن عمرو بن دينار، أنَّ أبا المِنْهال أخبره: أنَّ إياس بن عبدٍ قال للناس: لا تَبِيعوا فَضْلَ الماء، فإنَّ رسول الله ﷺ نهى عن بَيع الماءِ (1). ولابن جُرَيج فيه إسنادٌ آخرُ:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ایاس بن عبد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے لوگوں سے فرمایا: ضرورت سے زائد پانی مت بیچو، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے پانی کی بیع سے منع فرمایا ہے۔
أخبرَناه أبو الحسين محمد بن أحمد بن تَميم الحَنْظلي، حدثنا أبو قِلَابة عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حدثنا أبو عاصم، أخبرنا ابنُ جُرَيج، عن أبي الزُّبَير، عن جابر: أنَّ رسول الله ﷺ نهى عن بَيع الماء، وعن ضِراب الجَمَل، وأن يبيعَ الرجلُ أرضَه وماءَه (2). وهذه أسانيد كلُّها صحيحةٌ على شرط مسلم، ولم يُخرجاه (1). وأحسنُ ما في هذا الباب حديث الحسين بن واقِد الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2288 - على شرط مسلم_x000D_ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْحَنْظَلِيُّ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، أَنْبَأَ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ، وَعَنْ ضِرَابِ الْجَمَلِ، وَأَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ أَرْضَهُ وَمَاءَهُ» وَهَذِهِ أَسَانِيدُ كُلُّهَا صَحِيحَةٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَأَحْسَنُ مَا فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ» الَّذِي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2288 - على شرط مسلم_x000D_ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْحَنْظَلِيُّ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، أَنْبَأَ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ، وَعَنْ ضِرَابِ الْجَمَلِ، وَأَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ أَرْضَهُ وَمَاءَهُ» وَهَذِهِ أَسَانِيدُ كُلُّهَا صَحِيحَةٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَأَحْسَنُ مَا فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ» الَّذِي:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پانی کی بیع، اونٹ کی جفتی کی اجرت لینے، اور کسی شخص کے اپنی زمین (یا اس کے) پانی کے حقوق بیچنے سے منع فرمایا ہے۔
یہ تمام اسناد امام مسلم کی شرط پر صحیح ہیں لیکن شیخین نے انہیں روایت نہیں کیا۔
یہ تمام اسناد امام مسلم کی شرط پر صحیح ہیں لیکن شیخین نے انہیں روایت نہیں کیا۔
أخبرَناه أبو العباس محمد بن أحمد المَحْبُوبي، حدثنا الفضل بن عبد الجبار، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، أخبرنا الحسين بن واقِد، عن أيوب السَّختِياني، عن عطاء، عن جابر: أنَّ النبي ﷺ نهى عن بَيع الماءِ (2). تفرَّد به الحُسين بن واقِد عن أيوب، وهو غريبٌ صحيح.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2289 - غريب صحيح تفرد به حسين
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2289 - غريب صحيح تفرد به حسين
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے پانی کی بیع سے منع فرمایا ہے۔
اس روایت میں حسین بن واقد تفرد رکھتے ہیں اور یہ غریب و صحیح ہے۔
اس روایت میں حسین بن واقد تفرد رکھتے ہیں اور یہ غریب و صحیح ہے۔
أخبرنا بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيرفي بمَرْو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل البَلْخي، حدثنا مَكّي بن إبراهيم، عن عبد الملك بن أبي غَنِيّة، حدثني أبو إسحاق، عن عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي، قال: غَزَونا مع رسول الله ﷺ الشامَ، فكان يأتينا أنباطٌ من أنباطِ الشام، فنُسلِفُهم في البُرِّ والزَّيتِ سعرًا معلومًا، وأَجَلًا معلومًا، فقيل له: ممَّن لهم ذلك؟ قال: ما كنا نسأَلهم (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2290 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2290 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شام میں جہاد کیا، تو ہمارے پاس شام کے کچھ کاشتکار (انباط) آیا کرتے تھے، ہم انہیں گندم اور زیتون کے لیے ایک متعین قیمت اور متعین مدت پر بیعِ سلم (پیشگی ادائیگی) کیا کرتے تھے، تو ان سے پوچھا گیا: کیا ان کے پاس وہ مال (اس وقت) موجود ہوتا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: ہم ان سے اس بارے میں سوال نہیں کرتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔