المستدرك على الصحيحين
كتاب : البيوع— خریدوفروخت کا بیان
النَّهْيُ عَنْ كَسْبِ الْأَمَةِ حَتَّى يُعْلَمَ مِنْ أَيْنَ هُوَ . باب: لونڈی کی کمائی سے منع کیا گیا جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کہاں سے آئی ہے۔
حدیث نمبر: 2311
أخبرني عبد الله بن محمد بن موسى العدل، حدثنا علي بن الحُسين بن الجُنيد، حدثنا أحمد بن صالح، حدثني ابن أبي فُديك، عن عُبيد الله بن هُرَير، عن أبيه (1)، عن جده رافع بن خَديج، قال: نهى رسولُ الله ﷺ عن كَسبِ الأَمَة حتى يُعلَمَ مِن أين هو (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2280 - أخرجناه شاهداحافظ طلحہ بابر
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لونڈی کی کمائی سے اس وقت تک منع فرمایا ہے جب تک یہ معلوم نہ ہو جائے کہ وہ (کس ذریعے سے) حاصل ہوئی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) وقع في (ز) وحدها: عن أبيه، مكررة مرتين، والثانية مقحمة، لم يقع عند أحدٍ ممن خرَّج الحديث.
فنی نکتہ: نسخہ (ز) میں "عن ابیہ" کے الفاظ دو بار مکرر آئے ہیں، جن میں سے دوسرا لفظ زائد (مقحم) ہے، کسی اور مخرجِ حدیث میں یہ تکرار نہیں ہے۔
(2) إسناده حسن، عُبيد الله بن هُرير - وهو ابن عبد الرحمن بن رافع بن خديج - روى عنه جمع كما في "الجرح والتعديل" لابن أبي حاتم، و"تهذيب الكمال" للمزي، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وترجم له ابنُ سعد في "طبقاته" 7/ 588 وبَيَّن ما وُلِد له من الأبناء، فهو معروف، وسكت عبد الحق الإشبيلي عن حديثه هذا مُصححًا له، ولم يُصِب ابنُ القطان في تجهيله، وكنا قد مشينا على تجهيله أيضًا في "سنن أبي داود" (3427) بتحقيقنا، فيُستدرك من هنا، وأضفنا إليه هناك علة الانقطاع أيضًا، بحجة أنَّ جميع من ترجم لهُرير بن عبد الرحمن بن رافع بن خديج لم يذكروا روايته عن جده، بل ذكروا روايته عن أبيه عن جده، لكننا قد وقفنا على حديث له غير هذا من روايته عن جده من وجه صحيح عنه، وقد صرَّح فيه بسماعه منه، وهو حديث الإسفار بالفجر، وهو عند محمد بن الحسن الشَّيباني في "الحجة على أهل المدينة" 1/ 5 وعند غيره، فيُستدرك من هنا أيضًا، والله تعالى أعلم.
درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے۔ عبید اللہ بن ہریر معروف راوی ہیں، ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا ہے۔
فنی نکتہ: ابن القطان کا انہیں مجہول کہنا درست نہیں۔ پہلے ہم نے بھی ابوداؤد (3427) کی تحقیق میں انہیں مجہول سمجھا تھا، مگر اب اس کی تصحیح کر دی گئی ہے۔ ان کا اپنے دادا سے سماع ثابت ہے جیسا کہ "الحجة على أهل المدينة" 1/ 5 کی روایت سے واضح ہے۔
على أنه يشهد لحديثه هذا مرسل رفاعة بن رافع بن خَديج الذي قبله، ومرسل ولده عَبَاية بن رفاعة بن رافع بن خديج الذين خرجناه عنده.
متابعات و شواہد: اس حدیث کے شاہد کے طور پر رفاعہ بن رافع اور ان کے بیٹے عبایہ بن رفاعہ کی مرسل روایات موجود ہیں جن کی تخریج اوپر گزر چکی ہے۔
وأخرجه أبو داود (3427) عن أحمد بن صالح، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (3427) نے احمد بن صالح کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ: نسخہ (ز) میں "عن ابیہ" کے الفاظ دو بار مکرر آئے ہیں، جن میں سے دوسرا لفظ زائد (مقحم) ہے، کسی اور مخرجِ حدیث میں یہ تکرار نہیں ہے۔
(2) إسناده حسن، عُبيد الله بن هُرير - وهو ابن عبد الرحمن بن رافع بن خديج - روى عنه جمع كما في "الجرح والتعديل" لابن أبي حاتم، و"تهذيب الكمال" للمزي، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وترجم له ابنُ سعد في "طبقاته" 7/ 588 وبَيَّن ما وُلِد له من الأبناء، فهو معروف، وسكت عبد الحق الإشبيلي عن حديثه هذا مُصححًا له، ولم يُصِب ابنُ القطان في تجهيله، وكنا قد مشينا على تجهيله أيضًا في "سنن أبي داود" (3427) بتحقيقنا، فيُستدرك من هنا، وأضفنا إليه هناك علة الانقطاع أيضًا، بحجة أنَّ جميع من ترجم لهُرير بن عبد الرحمن بن رافع بن خديج لم يذكروا روايته عن جده، بل ذكروا روايته عن أبيه عن جده، لكننا قد وقفنا على حديث له غير هذا من روايته عن جده من وجه صحيح عنه، وقد صرَّح فيه بسماعه منه، وهو حديث الإسفار بالفجر، وهو عند محمد بن الحسن الشَّيباني في "الحجة على أهل المدينة" 1/ 5 وعند غيره، فيُستدرك من هنا أيضًا، والله تعالى أعلم.
درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے۔ عبید اللہ بن ہریر معروف راوی ہیں، ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا ہے۔
فنی نکتہ: ابن القطان کا انہیں مجہول کہنا درست نہیں۔ پہلے ہم نے بھی ابوداؤد (3427) کی تحقیق میں انہیں مجہول سمجھا تھا، مگر اب اس کی تصحیح کر دی گئی ہے۔ ان کا اپنے دادا سے سماع ثابت ہے جیسا کہ "الحجة على أهل المدينة" 1/ 5 کی روایت سے واضح ہے۔
على أنه يشهد لحديثه هذا مرسل رفاعة بن رافع بن خَديج الذي قبله، ومرسل ولده عَبَاية بن رفاعة بن رافع بن خديج الذين خرجناه عنده.
متابعات و شواہد: اس حدیث کے شاہد کے طور پر رفاعہ بن رافع اور ان کے بیٹے عبایہ بن رفاعہ کی مرسل روایات موجود ہیں جن کی تخریج اوپر گزر چکی ہے۔
وأخرجه أبو داود (3427) عن أحمد بن صالح، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (3427) نے احمد بن صالح کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2311 سے ماخوذ ہے۔