حدیث نمبر: 2315
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا إسرائيل، عن سِماك بن حَرْب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عمر: أنَّ النبي ﷺ سُئل عن … (1). صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے (کسی معاملے کے متعلق) پوچھا گیا...
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2315
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 2315] [ترقيم الشركة 2297]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) كذا وقع هذا الحديث في النسخ الخطية بالاقتصار على هذا القدر منه، وبُيِّض لسائره، وأورده الحافظ في "إتحاف المهرة" 8/ (9745) طريقًا ثانيًا للحديث التالي عند الحاكم، إلّا أنه قال: ببعضه. وهذا البعض الذي يعنيه الحافظ الظاهر أنه هو ما وقع في رواية الطحاوي في "شرح مشكل الآثار" (1246) عن أبي أمية، عن عُبيد الله بن موسى، بهذا الإسناد، عن ابن عمر، قال: أتيت النبي ﷺ وهو في حجرة حفصة، فقلت: يا رسول الله، رُويدك أسألك، إني أبيع الإبل بالبقيع، فأبيع بالدنانير وآخذ الدراهم، وأبيع بالدراهم وآخذ الدنانير، فقال رسول الله ﷺ: "إذا كان ذلك من صرف يومكما وافترقتُما وليس بينكما شيء، فلا بأس".
فنی نکتہ: قلمی نسخوں میں یہ حدیث اتنی ہی مختصر واقع ہوئی ہے، حافظ ابن حجر نے "اتحاف المہرہ" 8/ (9745) میں اسے اگلی حدیث کا ایک طریق قرار دیا ہے۔ طحاوی کی روایت (1246) میں مکمل الفاظ ہیں کہ ابن عباس نے بقیع میں درہم و دینار کے تبادلے کے بارے میں آپ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: "اگر تم اسی دن کے ریٹ پر معاملہ کرو اور جدا ہونے سے پہلے معاملہ مکمل کر لو، تو کوئی حرج نہیں"۔
وأخرج البيهقي طريق عبيد الله بن موسى هذه في "معرفة السنن والآثار" (11319) عن أبي عبد الله الحاكم، لكن من طريق أخرى إلى عبيد الله بن موسى، ليست في "المستدرك"، قال فيها الحاكم: أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي، قال: حدثنا أبو عثمان سعيد بن مسعود، قال: حدثنا عبيد الله بن موسى … بنحو رواية الطحاوي، فلا ندري ما وجه قوله في القدر الذي ذكره الحاكم: أنَّ النبي ﷺ سُئل عن، وقد ظهر لنا من خلال رواية الطحاوي والبيهقي أنَّ السائل هو ابن عمر نفسُه!
حوالہ / مصدر: بیہقی نے "معرفۃ السنن والآثار" (11319) میں اسے امام حاکم کے طریق سے روایت کیا ہے، مگر وہاں ایک اور سند ہے جو "المستدرک" میں نہیں ہے۔
اہم نکتہ: طحاوی اور بیہقی کی روایات سے واضح ہوتا ہے کہ سوال کرنے والے خود ابن عمر رضی اللہ عنہ تھے۔
وقد أخرج أبو داود هذا الحديث (3355) ومن طريقه ابن عبد البر في "التمهيد" 16/ 13 عن حسين بن الأسود العجلي، عن عبيد الله بن موسى. لكنه لم يسق لفظه، بل قال: بإسناده ومعناه، والأول أتم؛ يعني بذلك رواية حماد بن سلمة عن سماك، وستأتي بعد هذا عند الحاكم.
حوالہ / مصدر: ابوداؤد (3355) اور ان کے طریق سے ابن عبدالبر نے "التمہید" 16/ 13 میں اسے روایت کیا ہے، مگر وہاں الفاظ کے بجائے معنی پر اکتفا کیا گیا ہے۔ حماد بن سلمہ کی روایت جو آگے آئے گی وہ زیادہ مکمل ہے۔
وإذا صحَّ ذلك فإسناد هذا الحديث حسن من أجل سماك بن حرب، فهو صدوق حسن الحديث، وانظر تمام الكلام على روايته لهذا الحديث عند الطريق التالية.
درجۂ حدیث: سماک بن حرب کی وجہ سے اس حدیث کی سند حسن ہے، کیونکہ وہ صدوق اور حسن الحدیث ہیں۔
وأخرجه أحمد 8/ (4883) عن عبد الرزاق، و 9/ (5237) عن وكيع، و 9/ (5555) عن يحيى بن آدم، و 10/ (5773) عن حسين بن محمد، أربعتهم عن إسرائيل، به مختصرًا، دون يحيى بن آدم فإنه رواه بطوله.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے چار مختلف اسناد (8/ 4883، 9/ 5237، 9/ 5555، 10/ 5773) سے اسرائیل کے طریق سے روایت کیا ہے، یحییٰ بن آدم نے اسے مکمل طور پر بیان کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2315 سے ماخوذ ہے۔