کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: رسولُ اللہ ﷺ نے درندوں میں سے دانتوں والے جانوروں کے کھانے اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا۔
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا شَيبان، عن الأعمش، عن مجاهد، عن ابن عباس قال: نهى رسول الله ﷺ عن كل ذي نابٍ من السِّباع، وعن قتل الوِلْدان، وعن شراء المَغنَم حتى يُقسَم (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السّياقة. وله شاهد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2272 - على شرط البخاري ومسلم وشاهده صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تمام چیر پھاڑ کرنے والے درندوں (کچلی والے جانوروں)، بچوں کے قتل اور مالِ غنیمت کی تقسیم سے پہلے اس کی خرید و فروخت سے منع فرمایا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا ایک صحیح شاہد بھی موجود ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2303
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،شيبان: هو ابن عبد الرحمن النَّحْوى، والأعمش: هو سليمان بن مهران، ومجاهد: هو ابن جبر.» [ترقيم الرساله 2303] [ترقيم الشركة 2285] [ترقيم العلميه 2272]
حدَّثَناه علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا عُبيد بن شَريك، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا ابن أبي الزِّناد، حدثني عبد الرحمن بن الحارث، عن ابن أبي نَجِيح، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال: نهى رسولُ الله ﷺ عن بَيع المغانِمِ حتى تُقْسَم (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2273 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مالِ غنیمت کی تقسیم سے پہلے اس کی بیع سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2304
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات من أجل عبد الرحمن بن الحارث - وهو ابن عبد الله بن عياش المخزومي - فهو ضعيف يعتبر به، وقد توبع. ابن أبي الزِّناد: هو عبد الرحمن، وابن أبي نَجيح: هو عَبد الله.» [ترقيم الرساله 2304] [ترقيم الشركة 2286] [ترقيم العلميه 2273]
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن حُميد بن قيس، عن سليمان بن عَتِيق، عن جابر: أنَّ النبي ﷺ وَضَعَ الجَوائح (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2274 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے «وَضَعَ الْجَوَائِحَ» ”آسمانی آفات کی صورت میں پھل ضائع ہونے پر قیمت کی معافی“ کا حکم صادر فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2305
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،سفيان: هو ابن عيينة.» [ترقيم الرساله 2305] [ترقيم الشركة 2287] [ترقيم العلميه 2274]
قال عليٌّ (2): وقد كان سفيانُ حدثَنا عن أبي الزُّبَير، عن جابر، عن النبي ﷺ: أنه وَضَعَ الجوائحَ (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے آسمانی آفات کے نتیجے میں ہونے والے مالی نقصان کی تلافی (قیمت کی معافی) کا حکم دیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2305M
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 2305M]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن بُكير بن الأشَجّ، عن عِياض بن عبد الله، عن أبي سعيد الخُدْري، قال: أُصيبَ رجلٌ في عهد رسول الله ﷺ في ثمارٍ ابتاعَها، فكَثُر دَيْنُه، فقال رسول الله ﷺ: "تَصدَّقُوا عليه"، فتصدَّقُوا عليه، فلم يبلُغْ ذلك وفاءَ دَيْنِه، فقال رسول الله ﷺ: "خُذُوا ما وَجَدْتُم، وليس لكم إلّا ذلكَ" (4).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2275 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں ایک شخص نے پھل خریدے جس میں اسے (آسمانی آفت کی وجہ سے) نقصان ہوا اور اس پر قرض بہت بڑھ گیا، رسول اللہ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا: ”اس پر صدقہ کرو“، لوگوں نے صدقہ کیا لیکن وہ اس کے قرض کی ادائیگی کے لیے کافی نہ ہوا، تو رسول اللہ ﷺ نے (قرض خواہوں سے) فرمایا: ”جو کچھ تمہیں مل گیا ہے وہی لے لو، اس کے علاوہ تمہارے لیے اور کچھ نہیں ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2306
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 2306] [ترقيم الشركة 2288] [ترقيم العلميه 2275]
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أحمد بن محمد بن نَصْر، حدثنا أبو نُعيم الفضل بن دُكَين، حدثنا بُكير بن عامر، عن ابن أبي نُعْم، حدثنا رافع بن خَديج: أنه زَرَعَ أرضًا، فمرَّ به النبيُّ ﷺ وهو يسقيها، فسأله: "لمن الزرعُ؟ ولمن الأرضُ؟ " فقال: زرعي ببَذْري وعَمَلي، لي الشطرُ ولبني فلانٍ الشطرُ، فقال: "أربَيتُما، فَرُدَّ الأرضَ على أهلها، وخُذ نَفَقَتَك" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، إنما اتفقا على مناظرةِ عبد الله بن عُمر ورافع بن خَديج فيه (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2276 - بكير ضعيف
حافظ طلحہ بابر
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک زمین کاشت کی، نبی کریم ﷺ وہاں سے گزرے جبکہ وہ اسے پانی دے رہے تھے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کھیتی کس کی ہے اور زمین کس کی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: بیج اور محنت میری ہے، اس لیے آدھی پیداوار میری اور آدھی بنو فلاں کی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم دونوں نے سود کا معاملہ کیا ہے، لہٰذا زمین اس کے مالکوں کو واپس کر دو اور اپنی محنت کا خرچہ لے لو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ انہوں نے اس معاملے میں ابن عمر اور رافع بن خدیج کے مناظرے پر اتفاق کیا ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2307
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لضعف بُكير بن عامر
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف بُكير بن عامر، كما قال الذهبي في "تلخيصه". ابن أبي نُعْم: هو عبد الرحمن.» [ترقيم الرساله 2307] [ترقيم الشركة 2289] [ترقيم العلميه 2276]
أخبرنا عبد الله بن محمد بن موسى (2) العَدْل، حدثنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا وكيع وحُميد بن عبد الرحمن الرُّؤاسي، عن مغيرة بن زيادة، عن عُبادة بن نُسَيّ، عن الأسود بن ثعلبة، عن عبادة بن الصامت، قال: عَلَّمْتُ ناسًا من أهل الصُّفَّة الكتابةَ والقرآنَ، وأهدى إلي رجلٌ منهم قوسًا، فقلتُ: ليست بمالٍ، وأَرمي عليها في سبيل الله، لآتِيَنَّ رسولَ الله ﷺ، فلأَسألنّه، فأتيتُه، فقلتُ: يا رسول الله، رجلٌ أهدى إليَّ قوسًا ممَّن كنتُ أُعلِّمُه الكتابةَ والقرآنَ، وليست بمالٍ، وأَرمي عليها في سبيل الله، قال: إن كنتَ تحبُّ أن تُطَوَّقَ طَوقًا من نار فاقبَلْها" (3).
هذا حديثٌ صحيحُ الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2277 - مغيرة بن زياد صالح الحديث وقد تركه ابن حبان
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اہل صُفہ کے کچھ لوگوں کو لکھنا اور قرآن پڑھانا سکھایا تو ان میں سے ایک شخص نے مجھے ایک کمان ہدیہ کی، میں نے (اپنے دل میں) کہا کہ یہ کوئی مال تو نہیں ہے اور میں اسے اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے استعمال کروں گا، لیکن میں نے سوچا کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر ضرور پوچھوں گا، چنانچہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جس شخص کو میں لکھنا اور قرآن سکھاتا تھا اس نے مجھے ایک کمان ہدیہ کی ہے، وہ کوئی نقدی تو نہیں ہے اور میں اسے فی سبیل اللہ جہاد میں استعمال کروں گا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم یہ پسند کرتے ہو کہ تمہاری گردن میں آگ کا طوق ڈالا جائے تو اسے قبول کر لو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2308
درجۂ حدیث محدثین: حديث حسن
تخریج حدیث «حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الأسود بن ثعلبة، ومغيرة بن زياد فيه كلام، وخالفه بشر بن عبد الله بن يسار السُّلَمي فيما سيأتي عند الحاكم (5625)، وهو حسن الحديث، فرواه عن عبادة بن نُسَيّ، عن جُنادة بن أبي أمية، عن عبادة بن الصامت. وجنادة هذا تابعي كبير مخضرم، وقد ...» [ترقيم الرساله 2308] [ترقيم الشركة 2290] [ترقيم العلميه 2277]