حدیث نمبر: 2305
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن حُميد بن قيس، عن سليمان بن عَتِيق، عن جابر: أنَّ النبي ﷺ وَضَعَ الجَوائح (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2274 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے «وَضَعَ الْجَوَائِحَ» ”آسمانی آفات کی صورت میں پھل ضائع ہونے پر قیمت کی معافی“ کا حکم صادر فرمایا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2305
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،سفيان: هو ابن عيينة.» [ترقيم الرساله 2305] [ترقيم الشركة 2287] [ترقيم العلميه 2274]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. سفيان: هو ابن عيينة.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: سفیان سے مراد ابن عیینہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 22/ (14320)، ومسلم (1555) (17)، وأبو داود (3374)، والنسائي (6075)، وابن حبان (5031) من طرق عن سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 22/ (14320)، مسلم (1555) (17)، ابوداؤد (3374)، نسائی (6075) اور ابن حبان (5031) نے سفیان بن عیینہ کے متعدد طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد تقدم من طريق أبي الزُّبَير عن جابر برقم (2287) بلفظ: "إن بعت أخاك تمرات، فأصابته جائحة، فلا يحلُّ لك أن تأخذ منه شيئًا، أو تأخذ مال أخيك بغير إذنه".
تفصیلِ روایت: یہ روایت پہلے ابوزبیر کے طریق سے جابر رضی اللہ عنہ سے نمبر (2287) کے تحت ان الفاظ کے ساتھ گزر چکی ہے: "اگر تم نے اپنے بھائی کو کچھ کھجوریں فروخت کیں اور پھر اسے کوئی ناگہانی آفت (جائحة) پہنچ گئی، تو تمہارے لیے حلال نہیں کہ تم اس سے کچھ بھی وصول کرو، یا اپنے بھائی کا مال بغیر اجازت کے لو"۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2305 سے ماخوذ ہے۔