أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، حدثنا مسلم بن خالد، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة: أنَّ رجلًا اشترى مِن رجل غلامًا في زمن النبي ﷺ، فكان عنده ما شاء الله، ثم رَدَّه مِن عَيْبٍ وَجَدَ به، فقال الرجل حين ردَّ عليه الغلام: يا رسول الله، إنه كان استغلَّ غلامي منذ كان عنده، فقال النبي ﷺ: "الخَرَاجُ بالضَّمَان" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2176 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2176 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کے زمانے میں دوسرے شخص سے ایک غلام خریدا، وہ جب تک اللہ نے چاہا اس کے پاس رہا، پھر اسے کسی عیب کی وجہ سے جو اس نے پایا، واپس کر دیا، جب غلام واپس کیا گیا تو بیچنے والے نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس نے تو میرے غلام سے اتنے عرصے تک فائدہ (آمدنی) حاصل کیا ہے؟ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”فائدہ اس کے لیے ہے جو نقصان کا ذمہ دار ہے (یعنی آمدنی اس کی ہے جس کے قبضے میں شے ہلاک ہونے کا خطرہ تھا)۔“
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد، حدثنا مُسدَّد، حدثنا مسلم بن خالد، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة: أنَّ رجلًا اشترى غلامًا في زمن النبي ﷺ وبه عَيبٌ لم يَعلَمْ به، فاستغلَّه، ثم عَلِمَ العيبَ فردَّه، فخاصمَه إلى النبي ﷺ، فقال: يا رسول الله، إنه استغلَّه منذ زمان، فقال رسول الله ﷺ: "الغَلَّةُ بالضَّمَان" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه ابنُ أبي ذئب، عن مَخلَد بن خُفَافٍ، عن عُرْوة، عن عائشة مختصرًا (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2177 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه ابنُ أبي ذئب، عن مَخلَد بن خُفَافٍ، عن عُرْوة، عن عائشة مختصرًا (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2177 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ایک غلام خریدا جس میں کوئی ایسا عیب تھا جس کا اسے علم نہ تھا، اس نے اس غلام سے کام لیا (یا آمدنی حاصل کی)، پھر جب اسے عیب کا علم ہوا تو اسے واپس کر دیا، تب وہ فریقین اپنا مقدمہ نبی کریم ﷺ کے پاس لے گئے، بیچنے والے نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے ایک عرصے تک اس سے فائدہ اٹھایا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آمدنی ضمانت (نقصان کی ذمہ داری) کے بدلے میں ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اسے ابن ابی ذئب نے مخلد بن خفاف کے واسطے سے سیدہ عائشہ سے مختصراً بھی روایت کیا ہے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اسے ابن ابی ذئب نے مخلد بن خفاف کے واسطے سے سیدہ عائشہ سے مختصراً بھی روایت کیا ہے۔
أخبرَناه عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلّاب، حدثنا محمد بن الجَهْم، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا ابن أبي ذِئب. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أيوب، والحسن بن علي بن زياد، قالا: حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا ابن أبي ذِئب. وأخبرنا أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا عمر بن حفص السَّدُوسي، حدثنا عاصم بن علي، حدثنا ابن أبي ذئب. وأخبرني عبد الله بن محمد بن موسى، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا علي بن الجَعد، حدثنا ابن أبي ذئب، عن مَخلَدِ بن خُفَافٍ، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ: "إِنَّ الخَرَاجَ بالضَّمان" (1). وحديث عاصم: قضى رسول الله ﷺ أَنَّ الخَرَاج بالضَّمان (2). رواه الثَّوْري وابنُ المبارك ويحيى بنُ سعيد عن ابن أبي ذئب. أما حديث الثَّوري:
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یقیناً فائدہ (آمدنی) ضمانت (نقصان کی ذمہ داری) کے عوض ہے۔“ عاصم کی روایت کے الفاظ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ آمدنی ضمانت کے بدلے میں ہے۔ اسے سفیان ثوری، ابن مبارک اور یحییٰ بن سعید نے ابن ابی ذئب سے روایت کیا ہے۔
فأخبرَناه بَكْر بن محمد الصَّيرفي، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا قَبيصة، حدثنا سفيان. وحدثنا أبو عبد الله الصَّفار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى، حدثنا أبو حُذيفة، حدثنا سفيان، عن ابن أبي ذئب، عن مخلد بن خُفاف، عن عُرْوة، عن عائشة: أنَّ رسول الله ﷺ قضى أنَّ الخَرَاج بالضَّمان (1). وأما حديث ابن المبارك:
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ فائدہ ضمانت کے بدلے میں ہے۔
فأخبرَناه الحسن بن حَلِيم، أخبرنا أبو الموجِّه، حدثنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا ابنُ أبي ذئب، عن مَخْلَد بن خُفاف، عن عُرْوة، عن عائشة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "الخَراج بالضَّمان" (2). وأما حديث يحيى بن سعيد:
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فائدہ ضمانت کے عوض ہے۔“
فأخبرَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى، عن ابن أبي ذئب، عن مَخْلَد بن خُفاف، عن عُرْوة، عن عائشة: أنَّ رسول الله ﷺ قضى أنَّ الخَرَاج بالضَّمان (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ فائدہ ضمانت (نقصان کی ذمہ داری) کے بدلے میں ہے۔