حدیث نمبر: 2206
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، حدثنا مسلم بن خالد، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة: أنَّ رجلًا اشترى مِن رجل غلامًا في زمن النبي ﷺ، فكان عنده ما شاء الله، ثم رَدَّه مِن عَيْبٍ وَجَدَ به، فقال الرجل حين ردَّ عليه الغلام: يا رسول الله، إنه كان استغلَّ غلامي منذ كان عنده، فقال النبي ﷺ: "الخَرَاجُ بالضَّمَان" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2176 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کے زمانے میں دوسرے شخص سے ایک غلام خریدا، وہ جب تک اللہ نے چاہا اس کے پاس رہا، پھر اسے کسی عیب کی وجہ سے جو اس نے پایا، واپس کر دیا، جب غلام واپس کیا گیا تو بیچنے والے نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس نے تو میرے غلام سے اتنے عرصے تک فائدہ (آمدنی) حاصل کیا ہے؟ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”فائدہ اس کے لیے ہے جو نقصان کا ذمہ دار ہے (یعنی آمدنی اس کی ہے جس کے قبضے میں شے ہلاک ہونے کا خطرہ تھا)۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2206
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح إن شاء الله
تخریج حدیث «حديث صحيح إن شاء الله، مسلم بن خالد - وهو الزَّنجي - ضعيف يُعتبَر به في المتابعات والشواهد، وقد تابعه عمر بن علي المقدَّمي عند الترمذي، وجرير بن عبد الحميد عند أبي عوانة (5493)، وله طريق أخرى عن عروة ستأتي، وقد تلقّى العلماء هذا الحديث بالقَبول، والعمل عليه عندهم كما قال الترمذي.» [ترقيم الرساله 2206] [ترقيم الشركة 2187] [ترقيم العلميه 2176]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح إن شاء الله، مسلم بن خالد - وهو الزَّنجي - ضعيف يُعتبَر به في المتابعات

والشواهد، وقد تابعه عمر بن علي المقدَّمي عند الترمذي، وجرير بن عبد الحميد عند أبي عوانة (5493)، وله طريق أخرى عن عروة ستأتي، وقد تلقّى العلماء هذا الحديث بالقَبول، والعمل عليه عندهم كما قال الترمذي.

حکم / درجۂ حدیث: ان شاء اللہ یہ
صحیح حدیث ہے۔ مسلم بن خالد اگرچہ ضعیف ہیں مگر متابعات میں ان کی حدیث لی جا سکتی ہے۔ ائمہ نے اسے قبول کیا ہے اور اس پر عمل ہے۔
وأخرجه أحمد 41/ (24514) و (24847)، وأبو داود (3510)، وابن ماجه (2243)، وابن حبان (4927) من طرق عن مسلم بن خالد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد، ابو داؤد، ابن ماجہ اور ابن حبان نے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الترمذي (1286) من طريق عمر بن علي المقدمي، عن هشام بن عروة، به. وقال: حديث حسن غريب.
حکم / درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے
حسن غریب قرار دیا ہے۔
وانظر ما بعده.
ہدایت: اس کے بعد کی تفصیل دیکھیں۔
قوله: "الخراج بالضمان" معناه: أن ما يحصُل من غَلّة العين المبتاعة عبدًا كان أو أمةً أو مِلكًا، وذلك أن يشتريه فيستغلّه زمانًا، ثم يعثُر منه على عيب قديم لم يُطلعه البائع عليه، أو لم يعرفه، فله ردُّ العين المبيعة وأخذ الثمن، ويكون للمشتري ما استغلَّه، لأنَّ المبيع لو كان تلف في يده لكان من ضمانه، ولم يكن له على البائع شيء. والباء في قوله: "بالضمان" متعلقة بمحذوف تقديره: الخراج مستحق بالضمان، أي: بسببه. قاله ابن الأثير.
فقہی قاعدہ:
"الخراج بالضمان" کا مطلب ہے: نفع اس کا ہے جو نقصان کا ذمہ دار ہے۔ اگر کوئی غلام خریدے اور اس سے فائدہ اٹھائے، پھر عیب نکلنے پر اسے واپس کرے، تو وہ فائدہ خریدار کا ہوگا کیونکہ اگر غلام مر جاتا تو نقصان خریدار کا ہی ہوتا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2206 سے ماخوذ ہے۔