حدیث نمبر: 2207
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد، حدثنا مُسدَّد، حدثنا مسلم بن خالد، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة: أنَّ رجلًا اشترى غلامًا في زمن النبي ﷺ وبه عَيبٌ لم يَعلَمْ به، فاستغلَّه، ثم عَلِمَ العيبَ فردَّه، فخاصمَه إلى النبي ﷺ، فقال: يا رسول الله، إنه استغلَّه منذ زمان، فقال رسول الله ﷺ: "الغَلَّةُ بالضَّمَان" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه ابنُ أبي ذئب، عن مَخلَد بن خُفَافٍ، عن عُرْوة، عن عائشة مختصرًا (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2177 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ایک غلام خریدا جس میں کوئی ایسا عیب تھا جس کا اسے علم نہ تھا، اس نے اس غلام سے کام لیا (یا آمدنی حاصل کی)، پھر جب اسے عیب کا علم ہوا تو اسے واپس کر دیا، تب وہ فریقین اپنا مقدمہ نبی کریم ﷺ کے پاس لے گئے، بیچنے والے نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے ایک عرصے تک اس سے فائدہ اٹھایا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آمدنی ضمانت (نقصان کی ذمہ داری) کے بدلے میں ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اسے ابن ابی ذئب نے مخلد بن خفاف کے واسطے سے سیدہ عائشہ سے مختصراً بھی روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2207
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره كسابقه
تخریج حدیث «صحيح لغيره كسابقه،» [ترقيم الرساله 2207] [ترقيم الشركة 2188] [ترقيم العلميه 2177]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح كسابقه.
حکم / درجۂ حدیث: سابقہ روایت کی طرح یہ بھی
صحیح ہے۔
(2) لكن أخرجه بعضهم من هذه الطريق مطولًا بنحو لفظ مسلم بن خالد كأبي داود الطيالسي والشافعي وغيرهما.
حوالہ / مصدر: بعض ائمہ جیسے طیالسی اور شافعی نے اسے طویل الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2207 سے ماخوذ ہے۔