أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزَة، حدثنا جعفر بن عَون، عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، عن القاسم بن يزيد، عن أبي أمامة، قال: نهى رسول الله ﷺ أن يُحتَكَر الطعامُ (1). قد أخرج مسلم حديث محمد بن إسحاق (1)، عن محمد بن عمرو بن عطاء، عن سعيد بن المسيب، عن مَعمَر بن عبد الله بن نَضْلةَ، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "لا يَحتَكِرُ إلّا خاطئٌ". وهذا الحديث أحدُ ما يُنقَضُ عليه أن لا يصحَّ حديثُ صحابيٍّ لا يروي عنه تابعيان (2)، فإنَّ معمرًا هذا ليس له راوٍ غير سعيد بن المسيب، وأما حديث القاسم عن أبي أمامة فليس بذلك اللفظ. وقد روي في الزَّجْر عن احتكار الطعام والتقاعُد عن مُواساةِ المسلمين في الضِّيق أخبارٌ (3) لا بدَّ من ذكرها في هذا الموضع، لمَا دُفِع المسلمونَ إليه في الوقت. فمنها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2163 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2163 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غلے کی ذخیرہ اندوزی کرنے سے منع فرمایا ہے۔
امام مسلم نے معمر بن عبداللہ بن نضلہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «لَا يَحْتَكِرُ إِلَّا خَاطِئٌ» ”صرف گناہ گار ہی ذخیرہ اندوزی کرتا ہے۔“ اور یہ حدیث ان دلائل میں سے ہے جن سے اس اصول کی نفی ہوتی ہے کہ اس صحابی کی حدیث صحیح نہیں ہوتی جس سے دو تابعی روایت نہ کریں، کیونکہ ان معمر سے سوائے سعید بن مسیب کے کوئی اور راوی نہیں ہے، رہا القاسم کی ابوامامہ سے روایت کا معاملہ تو وہ ان الفاظ کے ساتھ نہیں ہے۔ ذخیرہ اندوزی کی ممانعت اور تنگی کے وقت مسلمانوں کی خیر خواہی سے پیچھے ہٹ جانے کے متعلق کچھ ایسی خبریں مروی ہیں جن کا اس مقام پر ذکر کرنا ضروری ہے، کیونکہ اس وقت مسلمان اسی تنگی کا شکار ہیں، ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔
امام مسلم نے معمر بن عبداللہ بن نضلہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «لَا يَحْتَكِرُ إِلَّا خَاطِئٌ» ”صرف گناہ گار ہی ذخیرہ اندوزی کرتا ہے۔“ اور یہ حدیث ان دلائل میں سے ہے جن سے اس اصول کی نفی ہوتی ہے کہ اس صحابی کی حدیث صحیح نہیں ہوتی جس سے دو تابعی روایت نہ کریں، کیونکہ ان معمر سے سوائے سعید بن مسیب کے کوئی اور راوی نہیں ہے، رہا القاسم کی ابوامامہ سے روایت کا معاملہ تو وہ ان الفاظ کے ساتھ نہیں ہے۔ ذخیرہ اندوزی کی ممانعت اور تنگی کے وقت مسلمانوں کی خیر خواہی سے پیچھے ہٹ جانے کے متعلق کچھ ایسی خبریں مروی ہیں جن کا اس مقام پر ذکر کرنا ضروری ہے، کیونکہ اس وقت مسلمان اسی تنگی کا شکار ہیں، ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔
ما أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مِهْران، حدثنا عُبيد الله (4) بن موسى، حدثنا إسرائيل، عن علي بن سالم بن ثَوبان، حدثني علي ابن زيد، عن سعيد بن المسيّب، عن عمر، قال: قال رسول الله ﷺ: "المحتكِرُ مَلْعُونٌ" (1). ومنها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2164 - علي بن سالم ضعيف
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2164 - علي بن سالم ضعيف
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ذخیرہ اندوزی کرنے والا ملعون (اللہ کی رحمت سے دور) ہے۔“
ما أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن أيوب، أخبرنا عمرو بن الحُصين العُقَيلي، حدثنا أصبَغُ بن زيد الجُهَني، عن أبي الزاهِريّة، عن كثير بن مُرّة الحَضْرمي، عن ابن عمر، قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن احتكرَ طعامًا أربعين ليلةً، فقد بَرِئَ من الله وبَرِئَ الله منه، وأيُّما أهلُ عَرَصةٍ أصبح فيهم امرؤٌ جائعًا، فقد بَرِئَت منهم ذِمّةُ الله" (1). ومنها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2165 - عمرو بن الحصين العقيلي تركوه وأصبع بن زيد الجهني فيه لين
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2165 - عمرو بن الحصين العقيلي تركوه وأصبع بن زيد الجهني فيه لين
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے چالیس راتوں تک غلہ روکے رکھا (ذخیرہ اندوزی کی)، وہ اللہ سے بیزار ہو گیا اور اللہ اس سے بیزار ہو گیا، اور جس بستی یا محلے والوں میں کوئی شخص صبح کے وقت بھوکا ہو، تو ان سے اللہ کا ذمہ اٹھ گیا۔“
ما أخبرَناهُ محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الغَسِيلي، حدثنا عبد الأعلى بن حماد النَّرْسِي، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن احتكَر يريدُ أن يُغاليَ بها على المسلمين، فهو خاطئٌ، وقد بَرِئ منه ذمةُ الله" (2). ومنها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2166 - العسيلي كان يسرق الحديث_x000D_ مَا أَخْبَرَنَاهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الدَّبَّاسُ، بِمَكَّةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الصَّائِغُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ بِالْمُؤْمِنِ الَّذِي يَبِيتُ شَبْعَانًا وَجَارُهُ جَائِعٌ إِلَى جَنْبِهِ» وَمِنْهَا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2166 - العسيلي كان يسرق الحديث_x000D_ مَا أَخْبَرَنَاهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الدَّبَّاسُ، بِمَكَّةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الصَّائِغُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ بِالْمُؤْمِنِ الَّذِي يَبِيتُ شَبْعَانًا وَجَارُهُ جَائِعٌ إِلَى جَنْبِهِ» وَمِنْهَا:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اس نیت سے ذخیرہ اندوزی کی کہ اس کے ذریعے مسلمانوں پر قیمتیں بڑھا دے، تو وہ خطا کار اور گناہ گار ہے، اور اس سے اللہ کا ذمہ بری ہو گیا۔“
ما أخبرَناه عبد العزيز بن عبد الرحمن الدَّبّاس بمكة، حدثنا محمد بن علي بن زيد الصائغ، حدثنا عبد العزيز بن يحيى، حدثنا سليمان بن بلال، عن علقمة بن أبي علقمة، عن أمّه، عن عائشة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "ليس بالمؤمنِ الذي يَبيتُ شبعانًا وجارُه جائعٌ إلى جَنْبِه" (1). ومنها:
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص مومن نہیں ہے جو خود تو پیٹ بھر کر سو جائے جبکہ اس کا پڑوسی اس کے پہلو میں بھوکا ہو۔“