کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جو شخص ہمارے بازار میں سامان لاتا ہے وہ اللہ کی راہ میں مجاہد کی مانند ہے۔
ما أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد، حدثنا جدّي، حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثني محمد بن طلحة بن (2) عبد الرحمن بن طلحة، عن عبد الرحمن بن أبي بكر بن المغيرة، عن عمه اليَسَع بن المغيرة، قال: مَرَّ رسولُ الله ﷺ برجلٍ بالسوق، يبيع طعامًا بسعرٍ هو أرخَصُ من سعر السوق، فقال له: "تبيعُ في سوقِنا بسعر هو أرخَصُ من سعرنا؟ " قال: نعم، قال: "صبرًا واحتسابًا؟ " قال: نعم، قال: "أبشِرْ، فإنَّ الجالِبَ إلى سوقِنا كالمجاهد في سبيل الله، والمحتكِرُ في سوقِنا كالمُلحِد في كتاب الله" (3). ومنها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2167 - خبر منكر وإسناد مظلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2167 - خبر منكر وإسناد مظلم
حافظ طلحہ بابر
یسع بن مغیرہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بازار میں ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو غلہ اس قیمت پر بیچ رہا تھا جو مارکیٹ ریٹ سے سستی تھی، آپ ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا: ”کیا تم ہمارے بازار میں ہماری قیمتوں سے سستا مال بیچ رہے ہو؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”صرف ثواب اور رضا الٰہی کی نیت سے؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے خوشخبری ہو، کیونکہ ہمارے بازار میں (باہر سے مال) لانے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مانند ہے، اور ہمارے بازار میں ذخیرہ اندوزی کرنے والا اللہ کی کتاب میں ملحد (سرکش نافرمان) کی طرح ہے۔“
ما حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن يونس، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا زيدٌ أبو المُعلَّى. وحدثنا أبو بكر قال: وأخبرنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا عَمرو بن علي، حدثنا المُعتمِر بن سليمان، قال: سمعتُ زيدًا أبا المُعلى يحدِّث عن الحسن، عن مَعقِل بن يَسار، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "مَن دَخَلَ في شيءٍ من أسعارِ المسلمين ليُغْليَ عليهم، كان حقًّا على الله أن يَقذِفَه في مُعظَمِ جهنَّم، رأسُه أسفلَه" (1). هذه الأحاديث الستة طلبتُها وخَرَّجتها في موضعها من هذا الكتاب احتسابًا لما فيه الناسُ من الضِّيق، والله يَكشِفُها، وإن لم يكن مِن شرط هذا الكتاب.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2168 - لا أعرف زيدا فتأمل هذه الستة أحاديث
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2168 - لا أعرف زيدا فتأمل هذه الستة أحاديث
حافظ طلحہ بابر
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص مسلمانوں کے نرخوں (قیمتوں) میں کسی قسم کی مداخلت کرے تاکہ ان پر قیمتیں مہنگی کر دے، تو اللہ پر یہ حق ہے کہ وہ اسے قیامت کے دن جہنم کے سب سے ہولناک حصے میں سر کے بل ڈال دے۔“
امام حاکم فرماتے ہیں: میں نے ان چھ احادیث کو تلاش کیا اور ثواب کی نیت سے یہاں نقل کیا ہے کیونکہ لوگ تنگی کا شکار ہیں، اللہ اسے دور فرمائے، اگرچہ یہ اس کتاب کی (باقاعدہ) شرط پر نہیں تھیں۔
امام حاکم فرماتے ہیں: میں نے ان چھ احادیث کو تلاش کیا اور ثواب کی نیت سے یہاں نقل کیا ہے کیونکہ لوگ تنگی کا شکار ہیں، اللہ اسے دور فرمائے، اگرچہ یہ اس کتاب کی (باقاعدہ) شرط پر نہیں تھیں۔