حدیث نمبر: 2192
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزَة، حدثنا جعفر بن عَون، عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، عن القاسم بن يزيد، عن أبي أمامة، قال: نهى رسول الله ﷺ أن يُحتَكَر الطعامُ (1). قد أخرج مسلم حديث محمد بن إسحاق (1)، عن محمد بن عمرو بن عطاء، عن سعيد بن المسيب، عن مَعمَر بن عبد الله بن نَضْلةَ، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "لا يَحتَكِرُ إلّا خاطئٌ". وهذا الحديث أحدُ ما يُنقَضُ عليه أن لا يصحَّ حديثُ صحابيٍّ لا يروي عنه تابعيان (2)، فإنَّ معمرًا هذا ليس له راوٍ غير سعيد بن المسيب، وأما حديث القاسم عن أبي أمامة فليس بذلك اللفظ. وقد روي في الزَّجْر عن احتكار الطعام والتقاعُد عن مُواساةِ المسلمين في الضِّيق أخبارٌ (3) لا بدَّ من ذكرها في هذا الموضع، لمَا دُفِع المسلمونَ إليه في الوقت. فمنها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2163 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غلے کی ذخیرہ اندوزی کرنے سے منع فرمایا ہے۔
امام مسلم نے معمر بن عبداللہ بن نضلہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «لَا يَحْتَكِرُ إِلَّا خَاطِئٌ» ”صرف گناہ گار ہی ذخیرہ اندوزی کرتا ہے۔“ اور یہ حدیث ان دلائل میں سے ہے جن سے اس اصول کی نفی ہوتی ہے کہ اس صحابی کی حدیث صحیح نہیں ہوتی جس سے دو تابعی روایت نہ کریں، کیونکہ ان معمر سے سوائے سعید بن مسیب کے کوئی اور راوی نہیں ہے، رہا القاسم کی ابوامامہ سے روایت کا معاملہ تو وہ ان الفاظ کے ساتھ نہیں ہے۔ ذخیرہ اندوزی کی ممانعت اور تنگی کے وقت مسلمانوں کی خیر خواہی سے پیچھے ہٹ جانے کے متعلق کچھ ایسی خبریں مروی ہیں جن کا اس مقام پر ذکر کرنا ضروری ہے، کیونکہ اس وقت مسلمان اسی تنگی کا شکار ہیں، ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2192
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، لكن وقع فيه خطأ في تسمية القاسم، حيث قُيد بابن يزيد، وإنما هو القاسم بن عبد الرحمن الدمشقي أبو عبد الرحمن، وهو المعروف بالرواية عن أبي أمامة، وجاء تقييده على الصواب في رواية محمد بن يحيى بن أبي عمر العَدَني في "مسنده" وكذا في رواية ابن المنذر في "الأوسط".» [ترقيم الرساله 2192] [ترقيم الشركة 2173] [ترقيم العلميه 2163]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح، لكن وقع فيه خطأ في تسمية القاسم، حيث قُيد بابن يزيد، وإنما هو القاسم بن عبد الرحمن الدمشقي أبو عبد الرحمن، وهو المعروف بالرواية عن أبي أمامة، وجاء تقييده على الصواب في رواية محمد بن يحيى بن أبي عمر العَدَني في "مسنده" وكذا في رواية ابن المنذر في "الأوسط".
حکم / درجۂ حدیث: سند
صحیح ہے، مگر راوی کے نام میں غلطی ہوئی ہے۔ "قاسم بن یزید" کے بجائے درست نام
القاسم بن عبدالرحمن الدمشقی ہے، جو ابو امامہؓ سے روایت کے لیے مشہور ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (10699) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد. وفيه: القاسم بن يزيد.
حوالہ / مصدر: امام بیہقی نے حاکم کی سند سے اسے روایت کیا، اس میں بھی قاسم بن یزید ہی لکھا ہے۔
وأخرجه ابن أبي شيبة في "المصنف" 6/ 102، وفي "المسند" كما في "إتحاف الخيرة" للبوصيري (2743/ 2)، وابن أبي عمر العَدَني في "مسنده" كما في "إتحاف الخيرة" (2743/ 1)، والرُّوياني في "مسنده" (1199)، وابن المنذر في "الأوسط" (7981)، والطبراني في "الكبير" (7776)، وفي "مسند الشاميين" (595)، وأبو طاهر المخلِّص في "المخلصيات" (2240/ 2) من طريق أبي أسامة حماد بن أسامة، عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ، طبری، رویانی اور مخلص نے ابو اسامہ کی سند سے عبدالرحمن بن یزید کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
والاحتكار المنهيّ عنه شرعًا - كما عرَّفه ابن حجر في "فتح الباري" 7/ 121 -: هو إمساك الطعام عن البيع وانتظار الغلاء مع الاستغناء عنه وحاجة الناس إليه. قال: وبهذا فسَّره مالك عن أبي الزِّناد عن سعيد بن المسيب.
فقہی تعریف:
"احتکار" (ذخیرہ اندوزی) جس سے منع کیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ ضرورت سے زائد غلہ فروخت نہ کرنا اور قیمت بڑھنے کا انتظار کرنا، جبکہ لوگوں کو اس کی سخت حاجت ہو۔
(1) كذا قال الحاكم، وهو وهم منه ﵀، لأنَّ مسلمًا إنما رواه من حديث محمد بن عجلان عن محمد بن عمرو بن عطاء برقم (1605)، على أنَّ محمد بن إسحاق قد روى هذا الحديث، لكن عن محمد بن إبراهيم التيمي عن سعيد بن المسيب، وروايته عند أحمد 25/ (15758)، وابن ماجه (2154)، والترمذي (1267)، وابن حبان (4936).
تصحیح: امام حاکم کا اسے مسلم کی شرط پر کہنا ان کا وہم ہے، کیونکہ مسلم نے اسے دوسری سند سے روایت کیا ہے۔ تاہم یہ حدیث احمد، ابن ماجہ اور ترمذی میں موجود ہے۔
(2) انظر تعليقنا على هذه المسألة عند الحديث (97).
ہدایت: اس مسئلے پر بحث نمبر (97) پر دیکھیں۔
(3) في النسخ الخطية: لأخبار، والمثبت هو الوجه.
تصحیح: قلمی نسخوں میں "لاخبار" تھا، درست لفظ
"الوجہ" ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2192 سے ماخوذ ہے۔