کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: کان اور آنکھ کے شر سے پناہ کی دعا۔
أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُقبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا الخَضِر بن أبان الهاشمي، حدثنا أبو أحمد محمد بن عبد الله الزُّبيري، حدثنا سعد بن أوس، عن بلال بن يحيى العَبْسي، عن شُتَير بن شَكَل، عن أبيه شَكَل بن حُميد، قال: أتيتُ رسولَ الله ﷺ، فقلت: يا رسول الله، علِّمني تَعوُّذًا أتعوّذُ به، فأخذَ بكفّي، فقال: "قُل: اللهمَّ إني أعوذُ بك من شرِّ سَمْعي، ومن شرِّ بَصَري، ومن شرِّ نَفْسي، ومن شرِّ مَنِيّي"، حتى حَفِظتُها (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا شکل بن حمید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسی دعا سکھائیے جس کے ذریعے میں پناہ مانگوں، تو آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: ”کہو: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي، وَمِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنی سماعت کے شر سے، اپنی بصارت کے شر سے، اپنے نفس (دل) کے شر سے اور اپنی منی (شہوت و جنسی اعضاء) کے شر سے“، یہاں تک کہ میں نے اسے حفظ کر لیا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر / حدیث: 1974
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف الخَضِر بن أبان الهاشمي، لكنه متابع.» [ترقيم الرساله 1974] [ترقيم الشركة 1959]
أخبرنا أبو الحسن محمد بن أحمد الحَنْظَلي ببغداد، حدثنا أبو قِلابة الرَّقَاشي، حدثنا أبو عاصم النَّبيل، حدثنا عُثمان الشّحّام، حدثني مُسلم بن أبي بَكْرة، قال: سَمِعَني أبي وأنا أقولُ: اللهم إني أعوذُ بك من الهَمّ والكَسَل وعذاب القَبر، فقال: يا بُنيّ، ممَّن سمعتَ هذا؟ قلت: سمعتك تقولُهن، قال: الْزَمْهنّ، فإني سمعتُهنّ من رسول الله ﷺ يقولُهنَّ (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے ان کے بیٹے مسلم بن ابوبکرہ کی روایت ہے کہ میرے والد نے مجھے یہ کہتے ہوئے سنا: اے اللہ! میں فکر و پریشانی، سستی اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں، تو انہوں نے پوچھا: اے میرے بیٹے! تم نے یہ کلمات کس سے سنے ہیں؟ میں نے کہا: میں نے آپ ہی کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے، انہوں نے فرمایا: ”انہیں لازم پکڑ لو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہی کلمات کہتے ہوئے سنا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر / حدیث: 1975
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي، من أجل عثمان الشَّحّام وأبي قِلابة. وهو عبد الملك بن محمد أبو عاصم النبيل: هو الضحاك بن مَخلَد. وقد روى هذا الحديث جماعة غير أبي عاصم، فقالوا في الدعاء: "اللهم إني أعوذ بك من الكفر والفقر وعذاب القبر" فذكروا "الكفر والفقر" بدل "الهمّ والكسل" كما تقدَّم برقم (99)، ...» [ترقيم الرساله 1975] [ترقيم الشركة 1960]
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا عَبْدان الأهوازي، حدثنا عَبْدة بن عبد الله الخُزاعي، حدثنا زيد بن الحُباب، أخبرنا عبد الرحمن بن ثابت بن ثَوبان، حدثنا عبد الله بن الفضل الهاشمي، عن عبد الرحمن الأعرج، عن أبي هريرة، قال: كان رسولُ الله ﷺ يتعوَّذ يقول: "أعوذُ بك من عذابِ جهنّمَ، وعذاب القبر، وفتنةِ المَحيا وفتنة المَمات، وفتنةِ الدَّجّال" (2).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان کلمات کے ذریعے پناہ مانگا کرتے تھے: «أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ، وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ» ”میں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنے سے اور دجال کے فتنے سے۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر / حدیث: 1976
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان، وقد توبع، عبد الرحمن الأعرج: هو ابن هُرمز.» [ترقيم الرساله 1976] [ترقيم الشركة 1961]